خرگوش
Oryctolagus cuniculus
نرم مزاج، ملنسار اور حیرت انگیز حد تک کھلنڈرے — نسلوں اور بالوں کی نمایاں اقسام رکھنے والے ساتھی۔
View خرگوش breedsScientific classification
The خرگوش's place in the tree of life, from domain down to species.
- ڈومینEukaryotaحقیقی مرکزہ والے جاندار
- عالمAnimaliaجانور
- شعبہChordataحبل ظہری جانور
- جماعتMammaliaممالیہ
- ترتیبLagomorphaخرگوش نما جانور
- خاندانLeporidaeخرگوش اور خرگوش نما
- جنسOryctolagusیورپی خرگوش
- نوعOryctolagus cuniculusخرگوش
خرگوش colors, patterns and markings
Every color, pattern and marking the taxonomy records for خرگوش, by part of the body. Each breed page shows which clubs accept which ones.
کھال
Color of the fur or hair.
Colors
گھریلو خرگوش
لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے پاکستانی شہروں میں خرگوش پالتو جانور کے طور پر تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ یہ خاموش، صاف ستھرا اور سماجی چھوٹا گیاہ خور جانور صحیح دیکھ بھال میں ۸ سے ۱۲ سال تک جیتا ہے۔
گھریلو خرگوش (Oryctolagus cuniculus) لیپوریڈی خاندان کا ایک چھوٹا، سماجی، گیاہ خور ستنداریہ ہے۔ بالغ خرگوش کا وزن ۱ سے ۷ کلوگرام اور عمر ۸ سے ۱۲ سال ہوتی ہے۔ یہ صبح سویرے اور شام کو سب سے زیادہ سرگرم رہتا ہے۔
پاکستان میں خرگوش کو روایتی طور پر گوشت کے لیے پالا جاتا رہا ہے۔ اب لاہور کے ایگزوٹک پیٹ بازاروں اور کراچی کے پرندوں اور جانوروں کی دکانوں میں پالتو خرگوش کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ اسلام آباد اور لاہور کے پوش علاقوں میں خرگوش رکھنا فیشن بنتا جا رہا ہے۔
خرگوش انتہائی سماجی جانور ہیں۔ اکیلے رکھنے پر ذہنی تناؤ اور افسردگی ہو سکتی ہے۔ ہر روز توجہ اور آدرشی طور پر ایک ساتھی خرگوش ہونا چاہیے۔
| موضوع | معلومات |
|---|---|
| سائنسی نام | Oryctolagus cuniculus |
| خاندان | Leporidae |
| وزن | ۱ سے ۷ کلوگرام (نسل کے مطابق) |
| اوسط عمر | ۸ سے ۱۲ سال |
| سرگرم وقت | صبح سویرے اور شام |
| خوراک | گیاہ خور |
| دیکھ بھال | درمیانی |
خرگوش کی نسلیں
دنیا میں تقریباً ۳۹ تسلیم شدہ نسلیں ہیں۔ حجم، کوٹ، کانوں کی قسم اور رنگ کی بنیاد پر انہیں پہچانا جاتا ہے۔
خرگوش کی نسلیں بونی (ڈوارف، تقریباً ۱ کلو) سے لے کر بہت بڑی (۵ کلو سے زیادہ) تک ہوتی ہیں۔ کوٹ چھوٹا، نرم یا اونی ہو سکتا ہے۔ کان سیدھے یا لٹکے ہوئے (لاپ) ہوتے ہیں۔
پاکستان میں پالتو خرگوش کے طور پر نیدرلینڈ ڈوارف، ہالینڈ لاپ اور ریکس نسلیں پسند کی جاتی ہیں۔
| نسل | حجم | خاصیت |
|---|---|---|
| نیدرلینڈ ڈوارف | بہت چھوٹا (~۱ کلو) | گول چہرہ، چھوٹے کان، پالتو کے لیے مقبول |
| ہالینڈ لاپ | چھوٹا-درمیانہ | لٹکے کان، دوستانہ مزاج |
| ریکس | درمیانہ | مخملی کوٹ |
| فرینچ لاپ | بڑا | بڑے لٹکے کان |
| نیوزی لینڈ | بڑا | پالتو اور گوشت دونوں کے لیے |
| کیلیفورنیئن | بڑا | سفید جسم، کالے کان-ناک-پنجے |
| بیلجیئن ہیر | درمیانہ | لمبی ٹانگیں، چست مزاج |
| امریکن چنچیلا | درمیانہ | گھنا نرم کوٹ |
خرگوش کی تاریخ
گھریلو خرگوش یورپی جنگلی خرگوش سے آیا، جو ابتدا میں آئبیرین جزیرہ نما میں پایا جاتا تھا۔
گھریلو خرگوش کے آباؤ اجداد یورپی جنگلی خرگوش (Oryctolagus cuniculus) آج کے اسپین اور پرتگال کے علاقوں میں رہتے تھے۔ رومیوں نے پہلے انہیں چھوٹے باڑوں میں گوشت کے لیے پالنا شروع کیا۔
قرون وسطی میں یورپی خانقاہوں میں خرگوش پالے جاتے تھے۔ آہستہ آہستہ مختلف نسلیں پیدا ہوئیں۔ ۱۹ویں صدی میں منظم افزائش نسل اور نمائشوں کے ذریعے مخصوص نسلیں تسلیم ہوئیں۔
۲۰ویں صدی میں خرگوش دنیا بھر میں پالتو اور فارم جانور دونوں کے طور پر پھیل گیا۔ پاکستان میں خرگوش روایتی طور پر گوشت اور اون کے لیے پالے جاتے رہے۔ اب شہری علاقوں میں پالتو خرگوش رکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
ظاہری شکل و صورت
خرگوش کا گول جسم، بڑے کان اور طاقتور پچھلی ٹانگیں اسے منفرد بناتے ہیں۔
خرگوش کا جسم کمپیکٹ اور گولاکار ہوتا ہے۔ بڑے کان سننے اور جسم کی گرمی نکالنے میں مدد کرتے ہیں۔ آنکھیں سر کے دونوں اطراف ہوتی ہیں جس سے تقریباً ۳۶۰ ڈگری نظر ملتی ہے۔ اگلی ٹانگیں چھوٹی اور پچھلی ٹانگیں لمبی اور طاقتور ہوتی ہیں۔
خرگوش کے دانت مسلسل بڑھتے رہتے ہیں، اس لیے پوری گھاس دینا ضروری ہے۔ دم چھوٹی اور گول ہوتی ہے۔
نسل کے مطابق شکل میں فرق ہوتا ہے: سیدھے یا لٹکے کان، چھوٹا یا اونی کوٹ، سفید سے کالے تک رنگوں کی تنوع۔
| خصوصیت | تفصیل |
|---|---|
| وزن | ۱ سے ۷ کلوگرام |
| کان | سیدھے یا لٹکے ہوئے؛ گرمی کنٹرول میں مددگار |
| آنکھیں | سر کے دونوں طرف؛ وسیع نظر |
| کوٹ | چھوٹا، نرم یا اونی |
| دانت | مسلسل بڑھتے ہیں؛ گھاس سے گھسائی ضروری |
| دم | چھوٹی اور گول |
فطرت اور طرز عمل
خرگوش شکار کا جانور ہے اس لیے قدرتی طور پر چوکنا رہتا ہے۔ صحیح ماحول میں یہ بہت پیارا ساتھی بن جاتا ہے۔
خرگوش ایک شکار جانور ہے، اس لیے فطری طور پر چوکنا اور محتاط رہتا ہے۔ اچانک آواز یا حرکت سے ڈر جاتا ہے۔ خطرہ محسوس ہونے پر پچھلی ٹانگوں سے زمین پر زور سے تھپکی مارتا ہے (تھمپنگ)۔ محفوظ اور آرام دہ محسوس کرنے پر پوری طرح پھیل کر لیٹ جاتا ہے۔
قدرتی طرز عمل:
- کھودنا اور بل بنانا
- چیزیں چبانا
- چارہ ڈھونڈنا (فورجنگ)
- اپنا علاقہ نشان لگانا
- خوشی میں اچھلنا اور گھومنا (بنکی)
خرگوش کو گود میں اٹھاتے وقت احتیاط برتیں۔ ہوا میں لٹکنے سے ڈر جاتے ہیں اور لات مار سکتے ہیں جس سے ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ سکتی ہے۔ اعتماد بنانے میں وقت لگتا ہے۔
روزانہ کی دیکھ بھال
خرگوش کی دیکھ بھال روزانہ کی ذمہ داری ہے۔ صحیح معمول سے خرگوش صحتمند اور خوش رہتا ہے۔
روزانہ کے کام:
- بے حد گھاس (ٹموتھی یا آرچرڈ گراس)
- ہمیشہ تازہ پانی
- ناپی ہوئی مقدار میں تازہ سبزیاں (دھنیا، پالک، ساگ، میتھی کے پتے)
- تھوڑی مقدار میں پیلٹ
- کم از کم ۳ سے ۴ گھنٹے کھلی جگہ ورزش
- لٹر ٹرے روزانہ صاف کرنا
ماحول اور پنجرہ:
- بڑا پنجرہ یا پین اور ورزش کا علاقہ
- بجلی کے تار اور زہریلے پودوں سے دور
- چھپنے کی جگہ (ڈبہ یا سرنگ)
- مضبوط فرش؛ تار کی جالی نہیں
گرومنگ:
- ہفتے میں دو بار برش کرنا، بال جھڑنے کے موسم میں زیادہ
- مہینے میں ایک بار ناخن کاٹنا
- کبھی کانوں سے مت اٹھائیں، پورے جسم کو سہارا دیں
خوراک اور غذائیت
صحیح غذائیت خرگوش کے دانتوں اور نظام ہضم کی صحت کی بنیاد ہے۔ گھاس سب سے اہم خوراک ہے۔
خوراک کی ترجیح:
۱. گھاس (سب سے زیادہ): ٹموتھی یا آرچرڈ گراس ہمیشہ دستیاب ہونا چاہیے۔ دانت گھسنے اور نظام ہضم درست رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
۲. تازہ سبزیاں (روزانہ): پاکستان میں آسانی سے ملنے والی محفوظ سبزیاں: پالک، دھنیا، ساگ، میتھی کے پتے، پودینہ، سبز پتی والا لیٹس۔ روزانہ جسمانی وزن کے مطابق ۱ سے ۲ کپ۔
۳. پیلٹ (محدود مقدار میں): اچھے معیار کے پیلٹ تھوڑی مقدار میں۔
۴. پانی: ہمیشہ تازہ اور صاف۔ پاکستان کی گرمیوں میں پانی کا بندوبست خاص طور پر یقینی بنائیں۔
خرگوش اپنے نرم مل (سیکوٹروف) خود کھاتے ہیں۔ یہ بالکل قدرتی اور غذائیت کے لیے ضروری ہے۔
| عمر | گھاس | سبزیاں | پیلٹ |
|---|---|---|---|
| ۰-۷ ہفتے | الفالفہ | نہیں | الفالفہ بنیاد |
| ۷ ہفتے-۷ ماہ | الفالفہ + گھاس | آہستہ آہستہ متعارف | الفالفہ بنیاد |
| ۷ ماہ سے زیادہ | گھاس | روزانہ بھرپور | محدود مقدار |
| ۷ سال سے زیادہ | گھاس | روزانہ | ویٹرنری مشورے کے مطابق |
صحت اور بیماریاں
صحیح خوراک، صاف ماحول اور باقاعدہ ویٹرنری معائنے سے خرگوش طویل صحتمند زندگی گزار سکتا ہے۔
عام صحت کے مسائل:
دانتوں کی بیماری: کافی گھاس نہ ملنے پر دانت بہت بڑے ہو جاتے ہیں۔ علامات: کھانا کم کرنا، منہ سے لعاب ٹپکنا۔
گٹ اسٹیسس: نظام ہضم رکنے کی ہنگامی حالت۔ علامات: کھانا بند، مل نہیں، کمر جھکا کر بیٹھنا۔ فوری ویٹرنری علاج ضروری۔
فلائی اسٹرائیک: پاکستان کے گرم موسم میں مکھیاں مل کے قریب انڈے دیتی ہیں؛ کیڑے جلد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ گرمیوں میں خاص توجہ ضروری۔
بڑے ناخن: باقاعدگی سے نہ کاٹنے پر چلنے میں تکلیف ہوتی ہے۔
سانس کا انفیکشن: ناک سے پانی آنا، چھینکنا۔
| قدم | کتنی بار |
|---|---|
| ویٹرنری معائنہ | سال میں ایک بار |
| دانت کا معائنہ | سال میں دو بار |
| ناخن کاٹنا | مہینے میں ایک بار |
| فلائی اسٹرائیک جانچ | گرمیوں میں روزانہ |
| نیوٹرنگ یا اسپیئنگ | ۴ سے ۶ ماہ کی عمر میں |
رہائش گاہ
پاکستان کی گرم جلوایی میں خرگوش کے لیے مناسب اور محفوظ رہائش بہت ضروری ہے۔
مثالی رہائش کے اجزاء:
- بڑا پنجرہ یا پین (ایک خرگوش کے لیے کم از کم ۶x۲x۲ فٹ)
- جڑا ہوا ورزش کا علاقہ
- مضبوط فرش (تار کی جالی نہیں)
- گھاس سے بھرا لٹر ٹرے
- گھاس رکھنے کا برتن اور پانی کی بوتل یا پیالہ
- چھپنے کی جگہ: ڈبہ یا لکڑی کی سرنگ
- چبانے کے کھلونے اور لکڑی کے ٹکڑے
پاکستان کی آب و ہوا میں خاص انتظام:
لاہور میں مئی-جون میں درجہ حرارت ۴۵ ڈگری تک پہنچتا ہے اور کراچی میں سال بھر گرمی اور نمی ہوتی ہے۔ AC کمرہ یا مضبوط پنکھا لازمی ہے۔ سنگ مرمر یا سیرامک ٹائلیں ٹھنڈک دیتی ہیں۔ برف کی بوتل پاس رکھیں۔ گرمیوں میں فلائی اسٹرائیک سے بچاؤ کے لیے روزانہ صاف کریں۔ باہر رکھنے سے پرہیز کریں یا صرف سایہ دار محفوظ جگہ پر رکھیں۔
افزائش نسل
خرگوش بہت تیزی سے افزائش نسل کرتے ہیں۔ پالتو خرگوش کے لیے نیوٹرنگ کی سفارش کی جاتی ہے۔
مادہ خرگوش (ڈو) عام طور پر ۳ سے ۶ ماہ کی عمر میں جنسی پختگی حاصل کر لیتی ہے۔ خرگوش حوصلہ افزا ڈمبخروج کرنے والے جانور ہیں، یعنی ملاپ کے بعد ہی بیضہ نکلتا ہے۔ اس وجہ سے بہت جلدی حاملہ ہو سکتی ہیں۔
حمل کی مدت صرف ۲۸ سے ۳۱ دن ہے۔ ایک بار میں ۴ سے ۱۲ بچے (کٹ) پیدا ہوتے ہیں۔ پیدائش کے وقت بچے اندھے، بہرے اور بالوں کے بغیر ہوتے ہیں۔ تقریباً ۱۰ دن میں آنکھیں کھلتی ہیں۔ ۴ سے ۸ ہفتوں میں دودھ چھڑایا جاتا ہے۔
خرگوش لینے سے پہلے
خرگوش پالنا ایک طویل مدتی وعدہ ہے۔ جذبات میں بہہ کر نہیں، سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔
خرگوش لینے سے پہلے ان باتوں پر غور کریں:
وقت اور وعدہ:
- ۸ سے ۱۲ سال کا طویل ساتھ
- روزانہ کھانا، پانی، لٹر صفائی اور ورزش کا وقت
- مسلسل توجہ اور ساتھ
رہائش:
- کافی جگہ اور گرمی سے بچاؤ
- بجلی کا بل (AC کی وجہ سے)
خرچہ (تخمینہ):
- ابتدائی: پنجرہ، سامان اور نیوٹرنگ (PKR ۱۵,۰۰۰-۵۰,۰۰۰)
- ماہانہ: گھاس، پیلٹ، سبزیاں (PKR ۳,۰۰۰-۸,۰۰۰)
- سالانہ: ویٹرنری معائنہ
بہترین ذریعہ:
- قابل اعتماد بریڈر یا ریسکیو مرکز
- عید یا بچوں کی سالگرہ پر جذباتی ہو کر مت لیں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پاکستان میں خرگوش پالنے کے بارے میں عام سوالوں کے جوابات۔
کیا خرگوش اچھے پالتو جانور ہوتے ہیں؟
ہاں، لیکن شرط ہے۔ خرگوش خاموش، صاف اور دوستانہ ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں خاص دیکھ بھال، جگہ اور روزانہ کا وقت چاہیے۔
خرگوش کتنے سال جیتے ہیں؟
صحیح دیکھ بھال میں گھریلو خرگوش عام طور پر ۸ سے ۱۲ سال جیتے ہیں۔ کچھ ۱۳ سے ۱۴ سال تک بھی جی لیتے ہیں۔
خرگوش پالنے میں کتنا خرچ آتا ہے؟
ابتدائی خرچ میں پنجرہ، سامان اور نیوٹرنگ شامل ہیں (تقریباً PKR ۱۵,۰۰۰-۵۰,۰۰۰)۔ ماہانہ خرچ میں گھاس، پیلٹ اور سبزیاں آتی ہیں (تقریباً PKR ۳,۰۰۰-۸,۰۰۰ فی مہینہ)۔ پاکستان کی گرمیوں میں AC کا بجلی بل اضافی ہے۔
کیا خرگوش پالنا مشکل ہے؟
درمیانی مشکل۔ روزانہ کا معمول نبھانا ہوتا ہے، پنجرہ صاف رکھنا ہوتا ہے اور پاکستان کی گرمی میں درجہ حرارت کا انتظام خاص طور پر ضروری ہے۔
کیا خرگوش بچوں اور خاندانوں کے لیے مناسب ہے؟
چھوٹے بچوں کے ساتھ محتاط نگرانی ضروری ہے کیونکہ غلط طریقے سے اٹھانے پر خرگوش کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ سکتی ہے۔ آٹھ سال سے بڑے بچے صحیح طریقہ سیکھ کر اچھے ساتھی بن سکتے ہیں۔
کیا خرگوش نئے پالنے والوں کے لیے مناسب ہے؟
کچھ چیلنجنگ ہے کیونکہ خرگوش کی خاص غذائیت اور صحت کی ضروریات ہیں۔ لیکن پہلے سے پڑھ لینے پر نئے لوگ بھی کامیابی سے پال سکتے ہیں۔
ایک رکھوں یا دو؟
دو نیوٹرڈ خرگوش اکٹھے رکھنے پر دونوں زیادہ خوش اور صحتمند رہتے ہیں۔ اکیلے خرگوش کو تنہائی، افسردگی اور بیماری ہو سکتی ہے۔