United Pet Club
گھوڑا

گھوڑا

Equus ferus caballus

طاقتور مگر نرم مزاج ساتھی، جنہیں ہزاروں سال سے سواری، کام اور کھیل کے لیے پالا جاتا رہا ہے۔

View گھوڑا breeds

Scientific classification

The گھوڑا's place in the tree of life, from domain down to species.

  1. ڈومین
    Eukaryota
    حقیقی مرکزہ والے جاندار
  2. عالم
    Animalia
    جانور
  3. شعبہ
    Chordata
    حبل ظہری جانور
  4. جماعت
    Mammalia
    ممالیہ
  5. ترتیب
    Perissodactyla
    طاق سُمی جانور
  6. خاندان
    Equidae
    گھوڑا نما جانور
  7. جنس
    Equus
    گھوڑے، گدھے اور زیبرا
  8. نوع
    Equus ferus
    جنگلی گھوڑا
  9. ذیلی نوع
    Equus ferus caballus
    گھوڑا

گھوڑا

گھوڑا ایک بڑا پالتو سم دار دودھ پلانے والا جانور ہے جو سواری، کھیل، محنت اور صحبت کے لیے پالا جاتا ہے۔ یہ ریوڑ میں رہنے والا جانور ہے اور روزانہ دیکھ بھال، چارے اور کافی جگہ کی ضرورت رکھتا ہے۔

سائنسی نام Equus ferus caballus، خاندان Equidae۔ پاکستان میں گھوڑے کی ایک شاندار روایت ہے: سندھی، بلوچی اور وزیری نسلیں صدیوں سے پالی جاتی ہیں۔ لاہور پولو کلب اور اسلام آباد ایکوسٹرین کلب گھوڑے سے متعلق سرگرمیوں کے مراکز ہیں۔ نیزہ بازی (Tent Pegging) پاکستان کا قومی کھیل ہے جس میں گھوڑا مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ بالغ گھوڑے کی اونچائی مرجھے (withers) سے ناپی جاتی ہے اور عموماً ١.٤–١.٨ میٹر ہوتی ہے۔

گھوڑے کی بنیادی معلومات
موضوعمعلومات
سائنسی نامEquus ferus caballus
خاندانEquidae
اونچائی (مرجھے سے)١.٤–١.٨ میٹر
وزن٣٨٠–٥٥٠ کلو (ڈرافٹ: ٧٠٠–١٠٠٠+ کلو)
اوسط عمر٢٥–٣٠ سال
خوراکسبزی خور
دیکھ بھال کی سطحبہت زیادہ

گھوڑے کی نسلیں

دنیا میں تقریباً ٥١ سے زیادہ تسلیم شدہ گھوڑوں کی نسلیں ہیں۔ پاکستان میں سندھی، بلوچی اور وزیری نسلیں مشہور ہیں۔

پاکستان کی اپنی شاندار نسلیں ہیں: سندھی (سندھ کی مضبوط اور چست نسل)، بلوچی (بلوچستان کا تیز رفتار گھوڑا) اور وزیری (خیبر پختونخوا کی پہاڑی نسل)۔ یہ نسلیں صدیوں کے انتخاب کا نتیجہ ہیں اور برصغیر کی آب و ہوا کے لیے موزوں ہیں۔ عربی (Arabian) اور تھوروبرڈ (Thoroughbred) نسلیں پولو اور ریسنگ میں مقبول ہیں۔ مارواڑی (Marwari) نسل جس کے کان اندر کی طرف مڑے ہوتے ہیں، ہندوستانی ذیلِ براعظم کی پہچان ہے۔

مشہور گھوڑوں کی نسلیں
نسلزمرہخصوصیت
سندھی (Sindhi)ہلکی/مقامیمضبوط، چست، سندھ کی نسل
بلوچی (Balochi)ہلکی/مقامیتیز رفتار، بلوچستان کا فخر
وزیری (Waziri)ہلکی/مقامیپہاڑی علاقے کے لیے موزوں
عربی (Arabian)ہلکی/گرم خونبرداشت، ذہانت، پولو میں مفید
تھوروبرڈ (Thoroughbred)ہلکی/گرم خونتیز رفتار، ریسنگ میں مشہور
ہینوورین (Hanoverian)وارم بلڈڈریساج اور شوجمپنگ میں بہترین
شیٹ لینڈ پونی (Shetland Pony)پونیچھوٹا، بچوں کے لیے موزوں

تاریخ

گھوڑا تقریباً ٥٠٠٠–٦٠٠٠ سال پہلے یوریشین میدانوں میں پالتو بنایا گیا۔ برصغیر میں اس کا استعمال صدیوں پرانا ہے۔

ابتداء میں گھوڑا دودھ اور گوشت کے لیے پالا جاتا تھا۔ پھر سواری اور زراعت کے لیے استعمال ہونے لگا، جس نے نقل و حمل، کاشتکاری اور جنگ میں انقلاب برپا کر دیا۔ مغل سلطنت میں عظیم گھوڑسوار فوجیں تھیں۔ سندھی اور بلوچی نسلوں نے مقامی قبائلی جنگوں اور صحرائی مسافتوں میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی راج میں لاہور اور کراچی میں گھوڑ دوڑ کے میدان بنائے گئے جو آج بھی موجود ہیں۔ پندرہویں صدی کے آخر میں یورپیوں نے گھوڑے کو امریکا میں دوبارہ متعارف کرایا۔

جسمانی ساخت

گھوڑے کا لمبا سر، ایال (mane)، گہری چھاتی، لمبی دم اور ہر پاؤں میں ایک کھر (hoof) ہوتا ہے۔

گھوڑے کی اونچائی ہینڈ (hand) میں ناپی جاتی ہے، جہاں ایک ہینڈ تقریباً ١٠ سینٹی میٹر کے برابر ہے۔ عام گھوڑے کی اونچائی ١.٤–١.٨ میٹر اور وزن ٣٨٠–٥٥٠ کلو ہوتا ہے۔ بھاری نسلیں (ڈرافٹ ہارس) ٧٠٠ سے ١٠٠٠ کلو تک ہو سکتی ہیں۔ رنگوں میں بے (بھورا، کالی ٹانگیں)، چیسٹ نٹ (سرخ بھورا)، کالا، سرمئی، ڈن، پیلومینو (سنہرا)، روان (ملا جلا رنگ) اور مختلف دھاریدار شامل ہیں۔

جسمانی پیمائش بلحاظ قسم
قسماونچائیوزن
ہلکی نسل١.٤–١.٦ میٹر٣٨٠–٥٥٠ کلو
وارم بلڈ١.٦–١.٧٥ میٹر٥٠٠–٧٠٠ کلو
ڈرافٹ/بھاری نسل١.٦–١.٨ میٹر٧٠٠–١٠٠٠+ کلو
پونی (Pony)١.٤٧ میٹر سے کم٢٠٠–٣٥٠ کلو

رویہ اور عادات

گھوڑا شکار ہونے والا جانور ہے اس لیے ہوشیار اور فوری ردعمل کرنے والا ہوتا ہے۔ ریوڑ میں رہنے کی فطرت کی وجہ سے گہرے بندھن بناتا ہے۔

گھوڑا جسمانی زبان سے بات چیت کرتا ہے: کان، دم، پٹھے اور چہرے کے تاثرات اس کی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔ آوازوں سے بھی اظہار ہوتا ہے: ہنہناہٹ (whinny)، نکر (nicker)، سنورٹ (snort) اور سکویل (squeal)۔ سکون اور یکسانیت کے ساتھ دیکھ بھال کریں تو گھوڑا پراعتماد اور وفادار ساتھی بنتا ہے۔

دیکھ بھال

گھوڑے کو روزانہ تازہ پانی، چارہ، کھر کی صفائی، ورزش اور صاف اصطبل کی ضرورت ہے۔

روزانہ کی دیکھ بھال کی فہرست
کامتفصیل
پانیہمیشہ تازہ اور صاف پانی دستیاب رکھیں
خوراکگھاس یا ہے چھوٹے چھوٹے حصوں میں دیں
کھر کی صفائیروزانہ ہوف پک سے کھر صاف کریں
ورزش/چراگاہروزانہ کھلے میدان میں چرنے یا ورزش کا موقع دیں
اصطبل کی صفائیروزانہ گوبر اور گندا بچھونا ہٹائیں

نعل بند (Farrier) کو ہر ٦–٨ ہفتوں میں بلا کر کھر چھانٹوائیں اور نعل لگوائیں۔ سالانہ دانتوں کا معائنہ ضروری ہے۔ مستقل روٹین سے گھوڑے کا ذہنی دباؤ کم رہتا ہے۔

خوراک اور غذائیت

گھوڑے کی خوراک کی بنیاد گھاس یا ہے ہونی چاہیے۔ تھوڑا تھوڑا بار بار کھلائیں اور اچانک خوراک نہ بدلیں۔

گھوڑے کا نظام ہضم مسلسل متحرک رہنے کے لیے بنا ہے، اس لیے کافی مقدار میں گھاس یا ہے ضروری ہے۔ کنسنٹریٹ فیڈ (اناج) صرف کام کرنے والے، بڑھتے ہوئے، حاملہ یا بوڑھے گھوڑوں کے لیے ضروری ہے۔ گاجر اور سیب کم مقدار میں ٹریٹ کے طور پر دے سکتے ہیں۔ پانی ہمیشہ دستیاب ہونا چاہیے۔

صحت

اچھی دیکھ بھال سے گھوڑا ٢٥–٣٠ سال تک صحت مند رہ سکتا ہے۔ احتیاطی صحت سب سے ضروری ہے۔

عام صحت کے مسائل
بیماری/مسئلہعلاماتکرنے کا کام
قولنج/کولک (Colic)پیٹ درد، زمین پر لوٹنا، بے چینیفوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر بلائیں
لیمینائٹس (Laminitis)کھر میں درد، اگلے پاؤں پر کم بوجھخوراک پر کنٹرول اور ویٹرنری علاج
لنگڑاپن (Lameness)چلنے میں دقتویٹرنری ڈاکٹر سے مشورہ
دانتوں کا مسئلہکھانے میں دقت، وزن گھٹناسالانہ دانتوں کا معائنہ
سانس کی بیماریکھانسی، ناک سے بہناویٹرنری ڈاکٹر سے مشورہ

احتیاطی دیکھ بھال: باقاعدہ ٹیکے لگوانا، کیڑے مار دوائیں، ہر ٦–٨ ہفتوں میں نعل بند سروس اور سالانہ دانتوں کا معائنہ یقینی بنائیں۔

تربیت

گھوڑا جلدی سیکھتا ہے اور لمبے عرصے تک یاد رکھتا ہے۔ چھوٹے اور باقاعدہ سیشن سب سے موثر ہیں۔

سواری سے پہلے زمینی کام (ground work) سکھانا ضروری ہے۔ مثبت تربیتی طریقہ میں صحیح ردعمل پر فوری دباؤ کم کرنا یا تعریف کرنا شامل ہے۔ نیزہ بازی کی تربیت لاہور پولو کلب، اسلام آباد ایکوسٹرین کلب اور سندھ کے روایتی مرکزوں میں دستیاب ہے۔ صبر اور تسلسل کامیاب تربیت کی بنیاد ہے۔

افزائش نسل

گھوڑا ١–٢ سال میں جنسی پختگی پاتا ہے، لیکن ٣ سال کی عمر کے بعد افزائش مناسب ہے۔ حمل تقریباً ١١ ماہ کا ہوتا ہے۔

افزائش کا موزوں موسم بہار اور گرمیاں ہیں۔ عموماً ایک بچھیرا پیدا ہوتا ہے؛ جڑواں بہت کم ہوتے ہیں۔ بچھیرے کو تقریباً ٦ ماہ کی عمر میں ماں کے دودھ سے چھڑایا جاتا ہے۔ ذمہ دارانہ افزائش کے لیے نسل کی خصوصیات، صحت کا معائنہ اور دیکھ بھال کی صلاحیت یقینی بنائیں۔

افزائش نسل کی اہم معلومات
موضوعمعلومات
جنسی پختگی١–٢ سال میں
افزائش کی مناسب عمر٣ سال یا زیادہ
افزائش کا موسمبہار اور گرمیاں
حمل کی مدتتقریباً ١١ ماہ
بچوں کی تعدادعموماً ایک
دودھ چھڑاناتقریباً ٦ ماہ میں

گھوڑا خریدنے سے پہلے

گھوڑا پالنا ایک طویل المدتی ذمہ داری ہے۔ زمین یا بورڈنگ، روزانہ دیکھ بھال اور مسلسل بجٹ کی ضرورت ہے۔

ایک گھوڑا ٢٥–٣٠ سال تک جیتا ہے، اس لیے یہ ایک سنجیدہ طویل المدتی فیصلہ ہے۔ خریدنے سے پہلے کافی چراگاہ یا بورڈنگ سہولت، روزانہ دیکھ بھال کا وقت اور صلاحیت، اور نعل بند، ویٹرنری ڈاکٹر، خوراک اور رہائش کے باقاعدہ اخراجات کا حساب لگائیں۔ خریداری سے پہلے ویٹرنری ڈاکٹر سے پری-پرچیز معائنہ ضرور کروائیں۔

عام سوالات

گھوڑا پالنے سے متعلق عام سوالوں کے جوابات۔

کیا گھوڑا اچھا پالتو جانور ہے؟

گھوڑا ذہین، وفادار اور ساتھ دینے والا جانور ہے۔ لیکن پالنا مہنگا اور وقت طلب ہوتا ہے۔ کافی جگہ، تجربہ اور بجٹ ہو تو گھوڑا شاندار ساتھی ثابت ہوتا ہے۔

گھوڑے کی عمر کتنی ہوتی ہے؟

اچھی دیکھ بھال سے گھوڑا ٢٥–٣٠ سال تک جی سکتا ہے۔ کچھ گھوڑے ٤٠ سال تک بھی جیتے ہیں۔

گھوڑا پالنے میں کتنا خرچ آتا ہے؟

خوراک، اصطبل یا بورڈنگ، نعل بند، ویٹرنری ڈاکٹر اور دوائیں ملا کر ہر ماہ قابل ذکر خرچ ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ خرچ شہر اور سہولیات کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔

کیا گھوڑا بچوں اور خاندان کے لیے موزوں ہے؟

پرسکون مزاج کا گھوڑا یا پونی بچوں کے لیے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمیشہ بڑوں کی نگرانی ضروری ہے۔

گھوڑے کے لیے کتنی جگہ چاہیے؟

ایک گھوڑے کے لیے کم از کم ٠.٥ سے ١ ایکڑ چراگاہ اور کافی اصطبل کی جگہ ہونی چاہیے۔

کیا گھوڑا اکیلے رہ سکتا ہے؟

نہیں، گھوڑا ریوڑ میں رہنے والا جانور ہے۔ اکیلے رہنے سے ذہنی دباؤ اور اداسی ہوتی ہے۔ کم از کم ایک ساتھی جانور ضرور ہونا چاہیے۔

نئے مالک کے لیے گھوڑا پالنا کتنا مشکل ہے؟

گھوڑا پالنا کافی چیلنجنگ ہے۔ پہلی بار پالنے والوں کو کسی تجربہ کار ٹرینر یا گھوڑسواری کلب کی مدد لینی چاہیے۔