گھوڑا
Equus ferus caballus
طاقتور مگر نرم مزاج ساتھی، جنہیں ہزاروں سال سے سواری، کام اور کھیل کے لیے پالا جاتا رہا ہے۔
View گھوڑا breedsScientific classification
The گھوڑا's place in the tree of life, from domain down to species.
- ڈومینEukaryotaحقیقی مرکزہ والے جاندار
- عالمAnimaliaجانور
- شعبہChordataحبل ظہری جانور
- جماعتMammaliaممالیہ
- ترتیبPerissodactylaطاق سُمی جانور
- خاندانEquidaeگھوڑا نما جانور
- جنسEquusگھوڑے، گدھے اور زیبرا
- نوعEquus ferusجنگلی گھوڑا
- ذیلی نوعEquus ferus caballusگھوڑا
گھوڑا colors, patterns and markings
Every color, pattern and marking the taxonomy records for گھوڑا, by part of the body. Each breed page shows which clubs accept which ones.
کھال
Color of the fur or hair.
Colors
- سیاہ
- دخانی سیاہ
- سفید
- سرمئی
- گلابی سرمئی
- گرولو
- نیلا چال
- کلاسک شیمپین
- بھورا
- مہوگنی
- کمیت
- گہرا کمیت
- کلیجی سرنگ
- کمیت چال
- روپہلا دھبے دار
- روپہلا کمیت
- ڈن
- سرنگ
- ہلکا سرنگ
- سرخ ڈن
- سرخ چال
- پالومینو
- سنہرا کمیت
- پالومینو ڈن
- سنہرا کمیت ڈن
- سنہرا شیمپین
- کہربائی شیمپین
- کریم
- شیمپین
- کریمیلو
- پرلینو
- دخانی کریم
- ہلکا موتی رنگ
- بھورا چال
- دخانی گرولو
- روپہلا گرولو
- روپہلا ڈن
- سنہرا کریم شیمپین
- کہربائی کریم شیمپین
- کلاسک کریم شیمپین
- کھمبی رنگ
- روپہلا سنہرا کمیت
- کریم چال
گھوڑا
گھوڑا ایک بڑا پالتو سم دار دودھ پلانے والا جانور ہے جو سواری، کھیل، محنت اور صحبت کے لیے پالا جاتا ہے۔ یہ ریوڑ میں رہنے والا جانور ہے اور روزانہ دیکھ بھال، چارے اور کافی جگہ کی ضرورت رکھتا ہے۔
سائنسی نام Equus ferus caballus، خاندان Equidae۔ پاکستان میں گھوڑے کی ایک شاندار روایت ہے: سندھی، بلوچی اور وزیری نسلیں صدیوں سے پالی جاتی ہیں۔ لاہور پولو کلب اور اسلام آباد ایکوسٹرین کلب گھوڑے سے متعلق سرگرمیوں کے مراکز ہیں۔ نیزہ بازی (Tent Pegging) پاکستان کا قومی کھیل ہے جس میں گھوڑا مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ بالغ گھوڑے کی اونچائی مرجھے (withers) سے ناپی جاتی ہے اور عموماً ١.٤–١.٨ میٹر ہوتی ہے۔
| موضوع | معلومات |
|---|---|
| سائنسی نام | Equus ferus caballus |
| خاندان | Equidae |
| اونچائی (مرجھے سے) | ١.٤–١.٨ میٹر |
| وزن | ٣٨٠–٥٥٠ کلو (ڈرافٹ: ٧٠٠–١٠٠٠+ کلو) |
| اوسط عمر | ٢٥–٣٠ سال |
| خوراک | سبزی خور |
| دیکھ بھال کی سطح | بہت زیادہ |
گھوڑے کی نسلیں
دنیا میں تقریباً ٥١ سے زیادہ تسلیم شدہ گھوڑوں کی نسلیں ہیں۔ پاکستان میں سندھی، بلوچی اور وزیری نسلیں مشہور ہیں۔
پاکستان کی اپنی شاندار نسلیں ہیں: سندھی (سندھ کی مضبوط اور چست نسل)، بلوچی (بلوچستان کا تیز رفتار گھوڑا) اور وزیری (خیبر پختونخوا کی پہاڑی نسل)۔ یہ نسلیں صدیوں کے انتخاب کا نتیجہ ہیں اور برصغیر کی آب و ہوا کے لیے موزوں ہیں۔ عربی (Arabian) اور تھوروبرڈ (Thoroughbred) نسلیں پولو اور ریسنگ میں مقبول ہیں۔ مارواڑی (Marwari) نسل جس کے کان اندر کی طرف مڑے ہوتے ہیں، ہندوستانی ذیلِ براعظم کی پہچان ہے۔
| نسل | زمرہ | خصوصیت |
|---|---|---|
| سندھی (Sindhi) | ہلکی/مقامی | مضبوط، چست، سندھ کی نسل |
| بلوچی (Balochi) | ہلکی/مقامی | تیز رفتار، بلوچستان کا فخر |
| وزیری (Waziri) | ہلکی/مقامی | پہاڑی علاقے کے لیے موزوں |
| عربی (Arabian) | ہلکی/گرم خون | برداشت، ذہانت، پولو میں مفید |
| تھوروبرڈ (Thoroughbred) | ہلکی/گرم خون | تیز رفتار، ریسنگ میں مشہور |
| ہینوورین (Hanoverian) | وارم بلڈ | ڈریساج اور شوجمپنگ میں بہترین |
| شیٹ لینڈ پونی (Shetland Pony) | پونی | چھوٹا، بچوں کے لیے موزوں |
تاریخ
گھوڑا تقریباً ٥٠٠٠–٦٠٠٠ سال پہلے یوریشین میدانوں میں پالتو بنایا گیا۔ برصغیر میں اس کا استعمال صدیوں پرانا ہے۔
ابتداء میں گھوڑا دودھ اور گوشت کے لیے پالا جاتا تھا۔ پھر سواری اور زراعت کے لیے استعمال ہونے لگا، جس نے نقل و حمل، کاشتکاری اور جنگ میں انقلاب برپا کر دیا۔ مغل سلطنت میں عظیم گھوڑسوار فوجیں تھیں۔ سندھی اور بلوچی نسلوں نے مقامی قبائلی جنگوں اور صحرائی مسافتوں میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی راج میں لاہور اور کراچی میں گھوڑ دوڑ کے میدان بنائے گئے جو آج بھی موجود ہیں۔ پندرہویں صدی کے آخر میں یورپیوں نے گھوڑے کو امریکا میں دوبارہ متعارف کرایا۔
جسمانی ساخت
گھوڑے کا لمبا سر، ایال (mane)، گہری چھاتی، لمبی دم اور ہر پاؤں میں ایک کھر (hoof) ہوتا ہے۔
گھوڑے کی اونچائی ہینڈ (hand) میں ناپی جاتی ہے، جہاں ایک ہینڈ تقریباً ١٠ سینٹی میٹر کے برابر ہے۔ عام گھوڑے کی اونچائی ١.٤–١.٨ میٹر اور وزن ٣٨٠–٥٥٠ کلو ہوتا ہے۔ بھاری نسلیں (ڈرافٹ ہارس) ٧٠٠ سے ١٠٠٠ کلو تک ہو سکتی ہیں۔ رنگوں میں بے (بھورا، کالی ٹانگیں)، چیسٹ نٹ (سرخ بھورا)، کالا، سرمئی، ڈن، پیلومینو (سنہرا)، روان (ملا جلا رنگ) اور مختلف دھاریدار شامل ہیں۔
| قسم | اونچائی | وزن |
|---|---|---|
| ہلکی نسل | ١.٤–١.٦ میٹر | ٣٨٠–٥٥٠ کلو |
| وارم بلڈ | ١.٦–١.٧٥ میٹر | ٥٠٠–٧٠٠ کلو |
| ڈرافٹ/بھاری نسل | ١.٦–١.٨ میٹر | ٧٠٠–١٠٠٠+ کلو |
| پونی (Pony) | ١.٤٧ میٹر سے کم | ٢٠٠–٣٥٠ کلو |
رویہ اور عادات
گھوڑا شکار ہونے والا جانور ہے اس لیے ہوشیار اور فوری ردعمل کرنے والا ہوتا ہے۔ ریوڑ میں رہنے کی فطرت کی وجہ سے گہرے بندھن بناتا ہے۔
گھوڑا جسمانی زبان سے بات چیت کرتا ہے: کان، دم، پٹھے اور چہرے کے تاثرات اس کی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔ آوازوں سے بھی اظہار ہوتا ہے: ہنہناہٹ (whinny)، نکر (nicker)، سنورٹ (snort) اور سکویل (squeal)۔ سکون اور یکسانیت کے ساتھ دیکھ بھال کریں تو گھوڑا پراعتماد اور وفادار ساتھی بنتا ہے۔
دیکھ بھال
گھوڑے کو روزانہ تازہ پانی، چارہ، کھر کی صفائی، ورزش اور صاف اصطبل کی ضرورت ہے۔
| کام | تفصیل |
|---|---|
| پانی | ہمیشہ تازہ اور صاف پانی دستیاب رکھیں |
| خوراک | گھاس یا ہے چھوٹے چھوٹے حصوں میں دیں |
| کھر کی صفائی | روزانہ ہوف پک سے کھر صاف کریں |
| ورزش/چراگاہ | روزانہ کھلے میدان میں چرنے یا ورزش کا موقع دیں |
| اصطبل کی صفائی | روزانہ گوبر اور گندا بچھونا ہٹائیں |
نعل بند (Farrier) کو ہر ٦–٨ ہفتوں میں بلا کر کھر چھانٹوائیں اور نعل لگوائیں۔ سالانہ دانتوں کا معائنہ ضروری ہے۔ مستقل روٹین سے گھوڑے کا ذہنی دباؤ کم رہتا ہے۔
خوراک اور غذائیت
گھوڑے کی خوراک کی بنیاد گھاس یا ہے ہونی چاہیے۔ تھوڑا تھوڑا بار بار کھلائیں اور اچانک خوراک نہ بدلیں۔
گھوڑے کا نظام ہضم مسلسل متحرک رہنے کے لیے بنا ہے، اس لیے کافی مقدار میں گھاس یا ہے ضروری ہے۔ کنسنٹریٹ فیڈ (اناج) صرف کام کرنے والے، بڑھتے ہوئے، حاملہ یا بوڑھے گھوڑوں کے لیے ضروری ہے۔ گاجر اور سیب کم مقدار میں ٹریٹ کے طور پر دے سکتے ہیں۔ پانی ہمیشہ دستیاب ہونا چاہیے۔
صحت
اچھی دیکھ بھال سے گھوڑا ٢٥–٣٠ سال تک صحت مند رہ سکتا ہے۔ احتیاطی صحت سب سے ضروری ہے۔
| بیماری/مسئلہ | علامات | کرنے کا کام |
|---|---|---|
| قولنج/کولک (Colic) | پیٹ درد، زمین پر لوٹنا، بے چینی | فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر بلائیں |
| لیمینائٹس (Laminitis) | کھر میں درد، اگلے پاؤں پر کم بوجھ | خوراک پر کنٹرول اور ویٹرنری علاج |
| لنگڑاپن (Lameness) | چلنے میں دقت | ویٹرنری ڈاکٹر سے مشورہ |
| دانتوں کا مسئلہ | کھانے میں دقت، وزن گھٹنا | سالانہ دانتوں کا معائنہ |
| سانس کی بیماری | کھانسی، ناک سے بہنا | ویٹرنری ڈاکٹر سے مشورہ |
احتیاطی دیکھ بھال: باقاعدہ ٹیکے لگوانا، کیڑے مار دوائیں، ہر ٦–٨ ہفتوں میں نعل بند سروس اور سالانہ دانتوں کا معائنہ یقینی بنائیں۔
تربیت
گھوڑا جلدی سیکھتا ہے اور لمبے عرصے تک یاد رکھتا ہے۔ چھوٹے اور باقاعدہ سیشن سب سے موثر ہیں۔
سواری سے پہلے زمینی کام (ground work) سکھانا ضروری ہے۔ مثبت تربیتی طریقہ میں صحیح ردعمل پر فوری دباؤ کم کرنا یا تعریف کرنا شامل ہے۔ نیزہ بازی کی تربیت لاہور پولو کلب، اسلام آباد ایکوسٹرین کلب اور سندھ کے روایتی مرکزوں میں دستیاب ہے۔ صبر اور تسلسل کامیاب تربیت کی بنیاد ہے۔
افزائش نسل
گھوڑا ١–٢ سال میں جنسی پختگی پاتا ہے، لیکن ٣ سال کی عمر کے بعد افزائش مناسب ہے۔ حمل تقریباً ١١ ماہ کا ہوتا ہے۔
افزائش کا موزوں موسم بہار اور گرمیاں ہیں۔ عموماً ایک بچھیرا پیدا ہوتا ہے؛ جڑواں بہت کم ہوتے ہیں۔ بچھیرے کو تقریباً ٦ ماہ کی عمر میں ماں کے دودھ سے چھڑایا جاتا ہے۔ ذمہ دارانہ افزائش کے لیے نسل کی خصوصیات، صحت کا معائنہ اور دیکھ بھال کی صلاحیت یقینی بنائیں۔
| موضوع | معلومات |
|---|---|
| جنسی پختگی | ١–٢ سال میں |
| افزائش کی مناسب عمر | ٣ سال یا زیادہ |
| افزائش کا موسم | بہار اور گرمیاں |
| حمل کی مدت | تقریباً ١١ ماہ |
| بچوں کی تعداد | عموماً ایک |
| دودھ چھڑانا | تقریباً ٦ ماہ میں |
گھوڑا خریدنے سے پہلے
گھوڑا پالنا ایک طویل المدتی ذمہ داری ہے۔ زمین یا بورڈنگ، روزانہ دیکھ بھال اور مسلسل بجٹ کی ضرورت ہے۔
ایک گھوڑا ٢٥–٣٠ سال تک جیتا ہے، اس لیے یہ ایک سنجیدہ طویل المدتی فیصلہ ہے۔ خریدنے سے پہلے کافی چراگاہ یا بورڈنگ سہولت، روزانہ دیکھ بھال کا وقت اور صلاحیت، اور نعل بند، ویٹرنری ڈاکٹر، خوراک اور رہائش کے باقاعدہ اخراجات کا حساب لگائیں۔ خریداری سے پہلے ویٹرنری ڈاکٹر سے پری-پرچیز معائنہ ضرور کروائیں۔
عام سوالات
گھوڑا پالنے سے متعلق عام سوالوں کے جوابات۔
کیا گھوڑا اچھا پالتو جانور ہے؟
گھوڑا ذہین، وفادار اور ساتھ دینے والا جانور ہے۔ لیکن پالنا مہنگا اور وقت طلب ہوتا ہے۔ کافی جگہ، تجربہ اور بجٹ ہو تو گھوڑا شاندار ساتھی ثابت ہوتا ہے۔
گھوڑے کی عمر کتنی ہوتی ہے؟
اچھی دیکھ بھال سے گھوڑا ٢٥–٣٠ سال تک جی سکتا ہے۔ کچھ گھوڑے ٤٠ سال تک بھی جیتے ہیں۔
گھوڑا پالنے میں کتنا خرچ آتا ہے؟
خوراک، اصطبل یا بورڈنگ، نعل بند، ویٹرنری ڈاکٹر اور دوائیں ملا کر ہر ماہ قابل ذکر خرچ ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ خرچ شہر اور سہولیات کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔
کیا گھوڑا بچوں اور خاندان کے لیے موزوں ہے؟
پرسکون مزاج کا گھوڑا یا پونی بچوں کے لیے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمیشہ بڑوں کی نگرانی ضروری ہے۔
گھوڑے کے لیے کتنی جگہ چاہیے؟
ایک گھوڑے کے لیے کم از کم ٠.٥ سے ١ ایکڑ چراگاہ اور کافی اصطبل کی جگہ ہونی چاہیے۔
کیا گھوڑا اکیلے رہ سکتا ہے؟
نہیں، گھوڑا ریوڑ میں رہنے والا جانور ہے۔ اکیلے رہنے سے ذہنی دباؤ اور اداسی ہوتی ہے۔ کم از کم ایک ساتھی جانور ضرور ہونا چاہیے۔
نئے مالک کے لیے گھوڑا پالنا کتنا مشکل ہے؟
گھوڑا پالنا کافی چیلنجنگ ہے۔ پہلی بار پالنے والوں کو کسی تجربہ کار ٹرینر یا گھوڑسواری کلب کی مدد لینی چاہیے۔