مرغی
Gallus gallus domesticus
سخت جان اور منفرد مزاج والے صحن کے پرندے — انڈوں، گوشت اور غول کی سادہ خوشی کے لیے پالے جاتے ہیں۔
View مرغی breedsScientific classification
The مرغی's place in the tree of life, from domain down to species.
- ڈومینEukaryotaحقیقی مرکزہ والے جاندار
- عالمAnimaliaجانور
- شعبہChordataحبل ظہری جانور
- جماعتAvesپرندے
- ترتیبGalliformesزمینی مرغان
- خاندانPhasianidaeتیتر اور ان کے قبیلے
- جنسGallusجنگلی مرغ
- نوعGallus gallusسرخ جنگلی مرغ
- ذیلی نوعGallus gallus domesticusمرغی
مرغی colors, patterns and markings
Every color, pattern and marking the taxonomy records for مرغی, by part of the body. Each breed page shows which clubs accept which ones.
پر
Color of the feathers.
Colors
مرغی پالنے کا تعارف
پاکستان میں مرغی پالنا دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں عام ہے۔ دیسی مرغی اور گولڈن مصری ہائبرڈ سب سے زیادہ پالی جاتی ہیں۔
مرغی (Gallus gallus domesticus) Phasianidae خاندان کی سب سے زیادہ پالی جانے والی گھریلو چڑیا ہے۔ یہ ہر چیز کھانے والی (omnivore) ہے اور جنوبی ایشیا میں اس کی قدیم تاریخ ہے -- سندھ کے آثار قدیمہ میں مرغی کی ہڈیاں ملی ہیں۔
پاکستان میں دیسی مرغی (desi murgi) کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے -- اس کا گوشت اور انڈے خاص مقام رکھتے ہیں اور قیمت بھی زیادہ ہے۔ گولڈن مصری ہائبرڈ بھی گھریلو پالنے کے لیے بہت مقبول ہے۔
وزن: بینٹم نسل 0.5-1 کلو، عام نسل 1.5-5 کلو۔ عمر 5-10 سال۔ مرغی سماجی ہے اور جھنڈ میں رہنا پسند کرتی ہے۔ دن کو زمین کھودتی ہے، رات کو اونچی جگہ پر سوتی ہے۔
پاکستان میں مرغی کی نسلیں
دنیا میں تقریباً 38 مانی گئی نسلیں ہیں۔ پاکستان میں دیسی، گولڈن مصری، اصیل اور فوجی فاؤنڈیشن کی تجویز کردہ نسلیں مشہور ہیں۔
پاکستان میں مرغی کی نسلوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: انڈہ دینے والی، گوشت کے لیے، اور دوہرے مقصد کی۔ NARC (National Agricultural Research Centre) اور فوجی فاؤنڈیشن نے پاکستانی موسم اور حالات کے مطابق نسلوں کی سفارش کی ہے۔
اصیل (Aseel) پاکستان کی قدیم ورثہ نسل ہے۔ مختلف اقسام جیسے کوٹ خالصہ اصیل اور پاکستانی اصیل مشہور ہیں۔ مرغبازی غیر قانونی ہے لیکن یہ نسل ورثے کی نسل کے طور پر بھی پالی جاتی ہے۔
برہما اور کوچین نسلیں ایشیائی اصل کی ہیں اور جنوبی ایشیا سے ان کا تاریخی تعلق ہے۔
| نسل | خصوصیت | مقصد |
|---|---|---|
| دیسی مرغی | مقامی نسل، بیماری کی مزاحمت، قیمت زیادہ | انڈہ اور گوشت |
| گولڈن مصری | ہائبرڈ، اچھا انڈہ، صحن کے لیے موزوں | انڈہ اور گوشت |
| اصیل | قدیم ورثہ نسل، مضبوط جسم | ورثہ اور شوق |
| فیوومی | مصری نسل، گرمی برداشت، اچھا انڈہ | انڈہ |
| برہما | ایشیائی نسل، بڑا جسم، نرم مزاج | گوشت |
| کوچین | ایشیائی نسل، پیروں پر پر | گوشت |
مرغی پالنے کی تاریخ
مرغی کا پیش رو لال جنگلی مرغا (Red Junglefowl) جنوبی ایشیا کا مقامی پرندہ ہے۔ سندھ وادی تہذیب کے زمانے سے اس خطے میں مرغی پالنے کے شواہد ملتے ہیں۔
لال جنگلی مرغا (Gallus gallus) آج بھی جنوبی ایشیا کے جنگلوں میں پایا جاتا ہے۔ تقریباً 8,000 سال پہلے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں گھریلو مرغی وجود میں آئی۔ سندھ وادی تہذیب کی کھدائی میں مرغی کی ہڈیاں ملی ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ خطہ مرغی پالنے کے قدیم مراکز میں سے ایک تھا -- اور یہ زمین آج کا پاکستان ہے۔
یہاں سے مرغی مغرب کی طرف مشرق وسطی، مصر اور بحیرہ روم کے علاقوں میں پھیلی۔ 19ویں اور 20ویں صدی میں تجارتی نسلوں کا ارتقاء ہوا۔ پاکستان کی دیسی اور اصیل نسلیں ہزاروں سال پرانی ہیں۔
مرغی کی جسمانی ساخت
نسل کے مطابق رنگ، جسامت اور ساخت مختلف ہوتی ہے، لیکن کچھ بنیادی خصوصیات سب میں مشترک ہیں۔
مرغی کا جسم پروں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ سر پر سرخ کلغی اور کانوں کے نیچے گلولے (wattle) ہوتے ہیں۔ پیروں پر چھلکہ نما کھال اور زمین کھودنے والے ناخن ہوتے ہیں۔ مرغا مرغی سے بڑا اور رنگین ہوتا ہے۔
| خصوصیت | بینٹم نسل | عام نسل |
|---|---|---|
| اونچائی | 20-30 سینٹی میٹر | 40-70 سینٹی میٹر |
| وزن | 0.5-1 کلو | 1.5-5 کلو |
| پروں کا رنگ | متنوع | متنوع |
| کلغی کی قسم | نسل کے مطابق | نسل کے مطابق |
مرغی کی فطرت اور رویہ
مرغی جھنڈ میں رہنے والی چڑیا ہے۔ جھنڈ میں ایک ترتیب (pecking order) ہوتی ہے۔ دن کو چارہ ڈھونڈتی ہے، رات کو اونچی جگہ پر سوتی ہے۔
مرغیاں سماجی پرندے ہیں اور جھنڈ میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ ہر جھنڈ میں ایک ترتیب ہوتی ہے جس میں طاقتور مرغی پہلے کھانا کھاتی ہے۔
دن میں مرغیاں زمین کھود کر کیڑے مکوڑے اور دانے ڈھونڈتی ہیں اور مٹی میں نہاتی ہیں (dust bath)۔ یہ مٹی نہانا پرجیویوں سے بچاؤ کا قدرتی طریقہ ہے۔ شام کو اونچی جگہ بیٹھ کر سوتی ہیں۔
باقاعدگی سے میل جول سے مرغیاں پالتو ہو جاتی ہیں اور ہاتھ سے دانہ لیتی ہیں۔
روزانہ کی دیکھ بھال
مرغی کی دیکھ بھال میں روزانہ کا معمول ضروری ہے۔ پاکستان کی شدید گرمی (لاہور، ملتان میں 45 ڈگری سے زیادہ) میں خاص احتیاط چاہیے۔
روزانہ کا معمول:
- صبح دڑبہ کھولیں، تازہ پانی دیں
- مقررہ وقت پر دانہ دیں
- انڈے اکٹھے کریں
- آنکھیں، ناک، پیر، پر چیک کریں
- شام کو دڑبہ بند کریں
پاکستان کی گرمی کا انتظام: لاہور، ملتان، رحیم یار خان اور کراچی میں گرمیوں میں درجہ حرارت 45-48 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔ سایہ ضروری ہے۔ صبح 10 بجے سے پہلے اور شام 4 بجے کے بعد ہی باہر نکلنے دیں۔ ٹھنڈا پانی ہمیشہ دستیاب رکھیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں گرمی نسبتاً کم ہے لیکن احتیاط ضروری ہے۔
دڑبہ: خشک، ہوادار، اونچا بسیرا (roosting bar)، گھونسلے کے ڈبے، مٹی نہانے کی جگہ۔
مرغی کی خوراک اور غذائیت
عمر کے مطابق مناسب خوراک اور ہمیشہ تازہ پانی صحت مند مرغی کی بنیاد ہے۔
عمر کے مطابق خوراک:
- چوزے (0-6 ہفتے): starter feed (پروٹین 20-22%)
- بڑھتی مرغی (6-18 ہفتے): grower feed
- انڈہ دینے والی: layer feed + کیلشیم (سیپ کا چورا)
- گوشت کے لیے: broiler finisher
پاکستانی مقامی تکمیلی خوراک: باجرہ، مکئی کا دلیہ، گندم کا چوکر، ہری سبزیاں، گھر کی بچی کھچی روٹی اور سبزیاں تجارتی دانے کے ساتھ دی جا سکتی ہیں۔
| دیں | بالکل نہ دیں |
|---|---|
| باجرہ، مکئی، گندم کا چوکر | پھپھوندی لگا دانہ |
| ہری سبزیاں، گھاس | کچی پھلیاں (زہریلی) |
| سیپ کا چورا (کیلشیم) | ایوکاڈو |
| ابلا انڈہ، کیڑے مکوڑے | بہت نمکین بچا کچھا کھانا |
صحت اور بیماریوں سے بچاؤ
رانیکھیٹ (Newcastle Disease) کا ٹیکہ پاکستان میں سب سے ضروری ہے۔ NARC کی ہدایات کے مطابق ٹیکہ کاری کریں۔
| عمر | ٹیکہ | طریقہ |
|---|---|---|
| 5-7 دن | رانیکھیٹ (F strain) | آنکھ یا ناک میں قطرے |
| 14-16 دن | گمبورو (IBD) | پانی میں ملا کر |
| 21 دن | رانیکھیٹ بوسٹر (RD-2) | پانی میں ملا کر |
| 45-50 دن | فاؤل پاکس | پر میں سوئی سے |
| ہر 6 ماہ | رانیکھیٹ بوسٹر | پانی میں ملا کر |
عام بیماریاں:
- جوئیں اور کھجلی والے کیڑے: پروں کی جڑ میں چھوٹے پرجیوی؛ مٹی نہانا اور دوا سے ٹھیک ہوتا ہے
- پیٹ کے کیڑے: باقاعدگی سے کیڑے مار دوا دیں
- سانس کی بیماری: ناک سے بہنا، چھینکنا -- جانوروں کے ڈاکٹر سے ملیں
- انڈہ پھنسنا: ہنگامی صورتحال، فوری علاج ضروری
- مارک بیماری: ہیچری میں ٹیکہ لگوائیں
فوری ڈاکٹر کے پاس جائیں اگر: کھانا پینا بند ہو، سانس لینے میں تکلیف ہو، دست آئیں، یا کئی مرغیاں اچانک مر جائیں۔
دڑبہ اور رہنے کی جگہ
اچھا دڑبہ مرغی کی صحت کی بنیاد ہے۔ پاکستان کی شدید گرمی کو مدنظر رکھ کر بنائیں۔
مثالی دڑبے کی ضروریات:
- خشک اور ہوادار
- اونچا بسیرا (زمین سے 60 سینٹی میٹر)
- ہر 3-4 مرغی کے لیے ایک گھونسلے کا ڈبہ
- شکاریوں سے محفوظ جالی دار احاطہ
- مٹی نہانے کی جگہ
پاکستان کی گرمی کا حل: لاہور، ملتان اور بہاولپور میں گرمیوں میں سایہ لازمی ہے۔ دڑبے کی چھت پر بھوسا یا سفید رنگ کریں۔ اوپر چھڑکاؤ والی نظام (evaporative cooling) بھی استعمال ہوتا ہے۔ صبح اور شام کو پانی اضافی بار دیں۔
شکاری: کتے، چوہے، سانپ، نیولا، اور چیل پاکستان میں مرغی کے اہم دشمن ہیں۔ رات کو دڑبہ بند کریں۔ جالی زمین میں 30 سینٹی میٹر دبا کر لگائیں تاکہ سانپ اور چوہے نہ گھس سکیں۔
نسل کشی اور چوزوں کی دیکھ بھال
دیسی مرغی عموماً 6-7 ماہ میں انڈہ دینا شروع کرتی ہے۔ چوزے نکلنے میں 21 دن لگتے ہیں۔
انڈہ دینے کی عمر: گولڈن مصری عموماً 5-6 ماہ میں انڈہ دیتی ہے۔ دیسی مرغی 6-7 ماہ یا زیادہ وقت لے سکتی ہے۔ اصیل نسل بھی دیر سے شروع کرتی ہے۔
مرغا اور نسل کشی: انڈے لینے کے لیے مرغے کی ضرورت نہیں۔ لیکن چوزوں کے لیے مرغا ضروری ہے۔ ایک مرغا 8-12 مرغیوں کے ساتھ رہ سکتا ہے۔
21 دن میں چوزے: بروڈی مرغی یا انکیوبیٹر استعمال کریں۔
| مرحلہ | عمر | ضرورت |
|---|---|---|
| چوزے نکلنا | 21 دن | درجہ حرارت 37.5 ڈگری، نمی 55-65% |
| بروڈر مرحلہ | 0-6 ہفتے | گرمی شروع میں 35 ڈگری، ہر ہفتے 3 ڈگری کم |
| سٹارٹر دانہ | 0-6 ہفتے | starter feed، تازہ پانی |
| گروور مرحلہ | 6-18 ہفتے | grower feed، باہر جانے کی جگہ |
مرغی لینے سے پہلے کیا سوچیں
مرغی پالنا 5-10 سال کی ذمہ داری ہے۔ پاکستانی روپے میں خرچ کا اندازہ پہلے لگائیں۔
مرغی کہاں سے لیں:
- NARC یا فوجی فاؤنڈیشن کے ہیچری
- مقامی دیسی مرغی پالنے والے
- مویشی منڈی
- قابل اعتماد آن لائن گروپ
صحت مند مرغی کی پہچان: چمکدار آنکھیں، چست، ہموار پر، ناک آنکھ سے بہاؤ نہیں، معمول کی چال۔
نئی مرغی کو کم از کم ایک ہفتہ الگ رکھیں پھر پرانے جھنڈ میں ملائیں۔
عیدالاضحی کے موقع پر: عیدالاضحی میں بنیادی طور پر گائے اور بکرے کی قربانی ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں عید کے موقع پر مرغی کی مانگ اور قیمت دونوں بڑھ جاتے ہیں۔
| خرچ کی قسم | رقم (PKR) |
|---|---|
| دیسی چوزہ (فی عدد) | 500-1,000 |
| گولڈن مصری چوزہ (فی عدد) | 300-600 |
| 10 مرغیوں کا دڑبہ | 20,000-80,000 |
| ماہانہ دانہ (فی مرغی) | 1,000-2,000 |
| سالانہ ٹیکہ خرچ (فی مرغی) | 300-600 |
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
مرغی پالنے سے متعلق سب سے عام سوالوں کے جوابات۔
کیا مرغی اچھا پالتو جانور ہے؟
ہاں، مرغیاں سماجی پرندے ہیں۔ باقاعدہ میل جول سے پالتو ہو جاتی ہیں اور ہاتھ سے دانہ لیتی ہیں۔ کم از کم دو رکھیں کیونکہ تنہائی میں پریشانی ہوتی ہے۔
مرغی کتنے سال جیتی ہے؟
عموماً 5-10 سال۔ دیسی مرغی زیادہ اور برائلر کم جیتی ہے۔ عمر کے ساتھ انڈہ کم ہوتا جاتا ہے۔
پاکستان میں مرغی پالنے کا خرچ کتنا ہے؟
دڑبہ بنانے میں 20,000-80,000 روپے لگتے ہیں۔ فی مرغی ماہانہ تقریباً 1,000-2,000 روپے دانے کا خرچ ہے۔ انڈے اور گوشت سے خرچ کا بڑا حصہ نکل آتا ہے۔
کیا مرغی پالنا مشکل ہے؟
نہیں، یہ ابتدائی لوگوں کے لیے بھی آسان ہے۔ روزانہ 15-30 منٹ کافی ہیں۔ گولڈن مصری نئے پالنے والوں کے لیے بہترین انتخاب ہے۔
کیا مرغی خاندان اور بچوں کے لیے مناسب ہے؟
ہاں، بچے مرغی کی دیکھ بھال سے ذمہ داری سیکھتے ہیں۔ مرغے سے بچوں کو محتاط رکھیں۔ مرغی چھونے کے بعد صابن سے ہاتھ دھونا ضروری ہے۔
کیا انڈوں کے لیے مرغے کی ضرورت ہے؟
نہیں۔ مرغی بغیر مرغے کے بھی انڈہ دیتی ہے لیکن وہ انڈے قابل ولادت نہیں ہوتے اور ان سے چوزے نہیں نکلتے۔
پاکستانی شہروں میں گھر میں مرغی پالنے کی قانونی اجازت ہے؟
دیہی علاقوں میں عموماً کوئی پابندی نہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں مقامی بلدیہ کے ضوابط مختلف ہو سکتے ہیں۔ اپنی یونین کونسل یا بلدیہ سے پہلے پوچھیں۔