United Pet Club
مرغی

مرغی

Gallus gallus domesticus

سخت جان اور منفرد مزاج والے صحن کے پرندے — انڈوں، گوشت اور غول کی سادہ خوشی کے لیے پالے جاتے ہیں۔

View مرغی breeds

Scientific classification

The مرغی's place in the tree of life, from domain down to species.

  1. ڈومین
    Eukaryota
    حقیقی مرکزہ والے جاندار
  2. عالم
    Animalia
    جانور
  3. شعبہ
    Chordata
    حبل ظہری جانور
  4. جماعت
    Aves
    پرندے
  5. ترتیب
    Galliformes
    زمینی مرغان
  6. خاندان
    Phasianidae
    تیتر اور ان کے قبیلے
  7. جنس
    Gallus
    جنگلی مرغ
  8. نوع
    Gallus gallus
    سرخ جنگلی مرغ
  9. ذیلی نوع
    Gallus gallus domesticus
    مرغی

مرغی پالنے کا تعارف

پاکستان میں مرغی پالنا دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں عام ہے۔ دیسی مرغی اور گولڈن مصری ہائبرڈ سب سے زیادہ پالی جاتی ہیں۔

مرغی (Gallus gallus domesticus) Phasianidae خاندان کی سب سے زیادہ پالی جانے والی گھریلو چڑیا ہے۔ یہ ہر چیز کھانے والی (omnivore) ہے اور جنوبی ایشیا میں اس کی قدیم تاریخ ہے -- سندھ کے آثار قدیمہ میں مرغی کی ہڈیاں ملی ہیں۔

پاکستان میں دیسی مرغی (desi murgi) کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے -- اس کا گوشت اور انڈے خاص مقام رکھتے ہیں اور قیمت بھی زیادہ ہے۔ گولڈن مصری ہائبرڈ بھی گھریلو پالنے کے لیے بہت مقبول ہے۔

وزن: بینٹم نسل 0.5-1 کلو، عام نسل 1.5-5 کلو۔ عمر 5-10 سال۔ مرغی سماجی ہے اور جھنڈ میں رہنا پسند کرتی ہے۔ دن کو زمین کھودتی ہے، رات کو اونچی جگہ پر سوتی ہے۔

پاکستان میں مرغی کی نسلیں

دنیا میں تقریباً 38 مانی گئی نسلیں ہیں۔ پاکستان میں دیسی، گولڈن مصری، اصیل اور فوجی فاؤنڈیشن کی تجویز کردہ نسلیں مشہور ہیں۔

پاکستان میں مرغی کی نسلوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: انڈہ دینے والی، گوشت کے لیے، اور دوہرے مقصد کی۔ NARC (National Agricultural Research Centre) اور فوجی فاؤنڈیشن نے پاکستانی موسم اور حالات کے مطابق نسلوں کی سفارش کی ہے۔

اصیل (Aseel) پاکستان کی قدیم ورثہ نسل ہے۔ مختلف اقسام جیسے کوٹ خالصہ اصیل اور پاکستانی اصیل مشہور ہیں۔ مرغبازی غیر قانونی ہے لیکن یہ نسل ورثے کی نسل کے طور پر بھی پالی جاتی ہے۔

برہما اور کوچین نسلیں ایشیائی اصل کی ہیں اور جنوبی ایشیا سے ان کا تاریخی تعلق ہے۔

پاکستان میں اہم مرغی نسلیں
نسلخصوصیتمقصد
دیسی مرغیمقامی نسل، بیماری کی مزاحمت، قیمت زیادہانڈہ اور گوشت
گولڈن مصریہائبرڈ، اچھا انڈہ، صحن کے لیے موزوںانڈہ اور گوشت
اصیلقدیم ورثہ نسل، مضبوط جسمورثہ اور شوق
فیوومیمصری نسل، گرمی برداشت، اچھا انڈہانڈہ
برہماایشیائی نسل، بڑا جسم، نرم مزاجگوشت
کوچینایشیائی نسل، پیروں پر پرگوشت

مرغی پالنے کی تاریخ

مرغی کا پیش رو لال جنگلی مرغا (Red Junglefowl) جنوبی ایشیا کا مقامی پرندہ ہے۔ سندھ وادی تہذیب کے زمانے سے اس خطے میں مرغی پالنے کے شواہد ملتے ہیں۔

لال جنگلی مرغا (Gallus gallus) آج بھی جنوبی ایشیا کے جنگلوں میں پایا جاتا ہے۔ تقریباً 8,000 سال پہلے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں گھریلو مرغی وجود میں آئی۔ سندھ وادی تہذیب کی کھدائی میں مرغی کی ہڈیاں ملی ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ خطہ مرغی پالنے کے قدیم مراکز میں سے ایک تھا -- اور یہ زمین آج کا پاکستان ہے۔

یہاں سے مرغی مغرب کی طرف مشرق وسطی، مصر اور بحیرہ روم کے علاقوں میں پھیلی۔ 19ویں اور 20ویں صدی میں تجارتی نسلوں کا ارتقاء ہوا۔ پاکستان کی دیسی اور اصیل نسلیں ہزاروں سال پرانی ہیں۔

مرغی کی جسمانی ساخت

نسل کے مطابق رنگ، جسامت اور ساخت مختلف ہوتی ہے، لیکن کچھ بنیادی خصوصیات سب میں مشترک ہیں۔

مرغی کا جسم پروں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ سر پر سرخ کلغی اور کانوں کے نیچے گلولے (wattle) ہوتے ہیں۔ پیروں پر چھلکہ نما کھال اور زمین کھودنے والے ناخن ہوتے ہیں۔ مرغا مرغی سے بڑا اور رنگین ہوتا ہے۔

مرغی کی جسمانی معلومات
خصوصیتبینٹم نسلعام نسل
اونچائی20-30 سینٹی میٹر40-70 سینٹی میٹر
وزن0.5-1 کلو1.5-5 کلو
پروں کا رنگمتنوعمتنوع
کلغی کی قسمنسل کے مطابقنسل کے مطابق

مرغی کی فطرت اور رویہ

مرغی جھنڈ میں رہنے والی چڑیا ہے۔ جھنڈ میں ایک ترتیب (pecking order) ہوتی ہے۔ دن کو چارہ ڈھونڈتی ہے، رات کو اونچی جگہ پر سوتی ہے۔

مرغیاں سماجی پرندے ہیں اور جھنڈ میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ ہر جھنڈ میں ایک ترتیب ہوتی ہے جس میں طاقتور مرغی پہلے کھانا کھاتی ہے۔

دن میں مرغیاں زمین کھود کر کیڑے مکوڑے اور دانے ڈھونڈتی ہیں اور مٹی میں نہاتی ہیں (dust bath)۔ یہ مٹی نہانا پرجیویوں سے بچاؤ کا قدرتی طریقہ ہے۔ شام کو اونچی جگہ بیٹھ کر سوتی ہیں۔

باقاعدگی سے میل جول سے مرغیاں پالتو ہو جاتی ہیں اور ہاتھ سے دانہ لیتی ہیں۔

روزانہ کی دیکھ بھال

مرغی کی دیکھ بھال میں روزانہ کا معمول ضروری ہے۔ پاکستان کی شدید گرمی (لاہور، ملتان میں 45 ڈگری سے زیادہ) میں خاص احتیاط چاہیے۔

روزانہ کا معمول:

  • صبح دڑبہ کھولیں، تازہ پانی دیں
  • مقررہ وقت پر دانہ دیں
  • انڈے اکٹھے کریں
  • آنکھیں، ناک، پیر، پر چیک کریں
  • شام کو دڑبہ بند کریں

پاکستان کی گرمی کا انتظام: لاہور، ملتان، رحیم یار خان اور کراچی میں گرمیوں میں درجہ حرارت 45-48 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔ سایہ ضروری ہے۔ صبح 10 بجے سے پہلے اور شام 4 بجے کے بعد ہی باہر نکلنے دیں۔ ٹھنڈا پانی ہمیشہ دستیاب رکھیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں گرمی نسبتاً کم ہے لیکن احتیاط ضروری ہے۔

دڑبہ: خشک، ہوادار، اونچا بسیرا (roosting bar)، گھونسلے کے ڈبے، مٹی نہانے کی جگہ۔

مرغی کی خوراک اور غذائیت

عمر کے مطابق مناسب خوراک اور ہمیشہ تازہ پانی صحت مند مرغی کی بنیاد ہے۔

عمر کے مطابق خوراک:

  • چوزے (0-6 ہفتے): starter feed (پروٹین 20-22%)
  • بڑھتی مرغی (6-18 ہفتے): grower feed
  • انڈہ دینے والی: layer feed + کیلشیم (سیپ کا چورا)
  • گوشت کے لیے: broiler finisher

پاکستانی مقامی تکمیلی خوراک: باجرہ، مکئی کا دلیہ، گندم کا چوکر، ہری سبزیاں، گھر کی بچی کھچی روٹی اور سبزیاں تجارتی دانے کے ساتھ دی جا سکتی ہیں۔

کیا دیں، کیا نہ دیں
دیںبالکل نہ دیں
باجرہ، مکئی، گندم کا چوکرپھپھوندی لگا دانہ
ہری سبزیاں، گھاسکچی پھلیاں (زہریلی)
سیپ کا چورا (کیلشیم)ایوکاڈو
ابلا انڈہ، کیڑے مکوڑےبہت نمکین بچا کچھا کھانا

صحت اور بیماریوں سے بچاؤ

رانیکھیٹ (Newcastle Disease) کا ٹیکہ پاکستان میں سب سے ضروری ہے۔ NARC کی ہدایات کے مطابق ٹیکہ کاری کریں۔

پاکستان میں اہم ٹیکہ کاری شیڈول
عمرٹیکہطریقہ
5-7 دنرانیکھیٹ (F strain)آنکھ یا ناک میں قطرے
14-16 دنگمبورو (IBD)پانی میں ملا کر
21 دنرانیکھیٹ بوسٹر (RD-2)پانی میں ملا کر
45-50 دنفاؤل پاکسپر میں سوئی سے
ہر 6 ماہرانیکھیٹ بوسٹرپانی میں ملا کر

عام بیماریاں:

  • جوئیں اور کھجلی والے کیڑے: پروں کی جڑ میں چھوٹے پرجیوی؛ مٹی نہانا اور دوا سے ٹھیک ہوتا ہے
  • پیٹ کے کیڑے: باقاعدگی سے کیڑے مار دوا دیں
  • سانس کی بیماری: ناک سے بہنا، چھینکنا -- جانوروں کے ڈاکٹر سے ملیں
  • انڈہ پھنسنا: ہنگامی صورتحال، فوری علاج ضروری
  • مارک بیماری: ہیچری میں ٹیکہ لگوائیں

فوری ڈاکٹر کے پاس جائیں اگر: کھانا پینا بند ہو، سانس لینے میں تکلیف ہو، دست آئیں، یا کئی مرغیاں اچانک مر جائیں۔

دڑبہ اور رہنے کی جگہ

اچھا دڑبہ مرغی کی صحت کی بنیاد ہے۔ پاکستان کی شدید گرمی کو مدنظر رکھ کر بنائیں۔

مثالی دڑبے کی ضروریات:

  • خشک اور ہوادار
  • اونچا بسیرا (زمین سے 60 سینٹی میٹر)
  • ہر 3-4 مرغی کے لیے ایک گھونسلے کا ڈبہ
  • شکاریوں سے محفوظ جالی دار احاطہ
  • مٹی نہانے کی جگہ

پاکستان کی گرمی کا حل: لاہور، ملتان اور بہاولپور میں گرمیوں میں سایہ لازمی ہے۔ دڑبے کی چھت پر بھوسا یا سفید رنگ کریں۔ اوپر چھڑکاؤ والی نظام (evaporative cooling) بھی استعمال ہوتا ہے۔ صبح اور شام کو پانی اضافی بار دیں۔

شکاری: کتے، چوہے، سانپ، نیولا، اور چیل پاکستان میں مرغی کے اہم دشمن ہیں۔ رات کو دڑبہ بند کریں۔ جالی زمین میں 30 سینٹی میٹر دبا کر لگائیں تاکہ سانپ اور چوہے نہ گھس سکیں۔

نسل کشی اور چوزوں کی دیکھ بھال

دیسی مرغی عموماً 6-7 ماہ میں انڈہ دینا شروع کرتی ہے۔ چوزے نکلنے میں 21 دن لگتے ہیں۔

انڈہ دینے کی عمر: گولڈن مصری عموماً 5-6 ماہ میں انڈہ دیتی ہے۔ دیسی مرغی 6-7 ماہ یا زیادہ وقت لے سکتی ہے۔ اصیل نسل بھی دیر سے شروع کرتی ہے۔

مرغا اور نسل کشی: انڈے لینے کے لیے مرغے کی ضرورت نہیں۔ لیکن چوزوں کے لیے مرغا ضروری ہے۔ ایک مرغا 8-12 مرغیوں کے ساتھ رہ سکتا ہے۔

21 دن میں چوزے: بروڈی مرغی یا انکیوبیٹر استعمال کریں۔

چوزوں کی دیکھ بھال
مرحلہعمرضرورت
چوزے نکلنا21 دندرجہ حرارت 37.5 ڈگری، نمی 55-65%
بروڈر مرحلہ0-6 ہفتےگرمی شروع میں 35 ڈگری، ہر ہفتے 3 ڈگری کم
سٹارٹر دانہ0-6 ہفتےstarter feed، تازہ پانی
گروور مرحلہ6-18 ہفتےgrower feed، باہر جانے کی جگہ

مرغی لینے سے پہلے کیا سوچیں

مرغی پالنا 5-10 سال کی ذمہ داری ہے۔ پاکستانی روپے میں خرچ کا اندازہ پہلے لگائیں۔

مرغی کہاں سے لیں:

  • NARC یا فوجی فاؤنڈیشن کے ہیچری
  • مقامی دیسی مرغی پالنے والے
  • مویشی منڈی
  • قابل اعتماد آن لائن گروپ

صحت مند مرغی کی پہچان: چمکدار آنکھیں، چست، ہموار پر، ناک آنکھ سے بہاؤ نہیں، معمول کی چال۔

نئی مرغی کو کم از کم ایک ہفتہ الگ رکھیں پھر پرانے جھنڈ میں ملائیں۔

عیدالاضحی کے موقع پر: عیدالاضحی میں بنیادی طور پر گائے اور بکرے کی قربانی ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں عید کے موقع پر مرغی کی مانگ اور قیمت دونوں بڑھ جاتے ہیں۔

تخمینی اخراجات (پاکستانی روپے میں)
خرچ کی قسمرقم (PKR)
دیسی چوزہ (فی عدد)500-1,000
گولڈن مصری چوزہ (فی عدد)300-600
10 مرغیوں کا دڑبہ20,000-80,000
ماہانہ دانہ (فی مرغی)1,000-2,000
سالانہ ٹیکہ خرچ (فی مرغی)300-600

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

مرغی پالنے سے متعلق سب سے عام سوالوں کے جوابات۔

کیا مرغی اچھا پالتو جانور ہے؟

ہاں، مرغیاں سماجی پرندے ہیں۔ باقاعدہ میل جول سے پالتو ہو جاتی ہیں اور ہاتھ سے دانہ لیتی ہیں۔ کم از کم دو رکھیں کیونکہ تنہائی میں پریشانی ہوتی ہے۔

مرغی کتنے سال جیتی ہے؟

عموماً 5-10 سال۔ دیسی مرغی زیادہ اور برائلر کم جیتی ہے۔ عمر کے ساتھ انڈہ کم ہوتا جاتا ہے۔

پاکستان میں مرغی پالنے کا خرچ کتنا ہے؟

دڑبہ بنانے میں 20,000-80,000 روپے لگتے ہیں۔ فی مرغی ماہانہ تقریباً 1,000-2,000 روپے دانے کا خرچ ہے۔ انڈے اور گوشت سے خرچ کا بڑا حصہ نکل آتا ہے۔

کیا مرغی پالنا مشکل ہے؟

نہیں، یہ ابتدائی لوگوں کے لیے بھی آسان ہے۔ روزانہ 15-30 منٹ کافی ہیں۔ گولڈن مصری نئے پالنے والوں کے لیے بہترین انتخاب ہے۔

کیا مرغی خاندان اور بچوں کے لیے مناسب ہے؟

ہاں، بچے مرغی کی دیکھ بھال سے ذمہ داری سیکھتے ہیں۔ مرغے سے بچوں کو محتاط رکھیں۔ مرغی چھونے کے بعد صابن سے ہاتھ دھونا ضروری ہے۔

کیا انڈوں کے لیے مرغے کی ضرورت ہے؟

نہیں۔ مرغی بغیر مرغے کے بھی انڈہ دیتی ہے لیکن وہ انڈے قابل ولادت نہیں ہوتے اور ان سے چوزے نہیں نکلتے۔

پاکستانی شہروں میں گھر میں مرغی پالنے کی قانونی اجازت ہے؟

دیہی علاقوں میں عموماً کوئی پابندی نہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں مقامی بلدیہ کے ضوابط مختلف ہو سکتے ہیں۔ اپنی یونین کونسل یا بلدیہ سے پہلے پوچھیں۔