
آسٹریلین ٹیریئر ایک پُرجوش، دلیر ننھا کام کرنے والا ٹیریئر ہے جو اپنے دلیر اعتماد اور عقیدت مند رفاقت کے لیے جانا جاتا ہے۔
آسٹریلین ٹیریئر کے بال کس طرح بنے ہیں اور دیکھ بھال میں اس کا کیا مطلب ہے۔
احتیاط: آسٹریلین ٹیریئر کے بال مشین سے کاٹنے کے بجائے ہاتھ سے نوچنے چاہییں۔
کھردری چادر اس لیے بنی ہے کہ بال پک کر الگ ہونے کو تیار ہو تو جڑ سے کھینچ لیا جائے۔ مشین اس کے بجائے اسے بیچ سے کاٹ دیتی ہے اور نیچے نرم زیریں تہہ چھوڑ دیتی ہے۔ نتیجہ ایسی چادر ہے جو ڈھیلی اور پھیکی اگتی ہے، اور موسم سے بچانے والی ساخت دوبارہ نوچنے کے بعد ہی لوٹتی ہے۔
A few of the آسٹریلین ٹیریئر profiles members have added to United Pet Club.
آسٹریلیا کا یہ چھوٹا مگر باہمت ٹیریئر اپنی چوکسی، خود اعتمادی اور مالک سے قریبی وابستگی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔
آسٹریلوی ٹیریئر کام کرنے والے ٹیریئر نسلوں میں سب سے چھوٹی نسلوں میں شمار ہوتا ہے۔ کندھے تک اس کا قد تقریباً 25 سے 28 سینٹی میٹر اور وزن 5 سے 7 کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ یہ نسل آسٹریلیا میں گھروں، کھیتوں اور کانوں کے آس پاس چوہوں اور سانپوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ پہرہ دار اور ساتھی کتے کا کردار نبھانے کے لیے تیار کی گئی۔ نتیجتاً ایک مضبوط، زمین سے قریب جسامت والا کتا وجود میں آیا جس کی کھردری، موسم برداشت کرنے والی کھال اور چھوٹے سے فریم میں بھرپور خود اعتمادی اس کی پہچان ہے۔
جسامت میں چھوٹا ہونے کے باوجود اس کا مزاج ایک اصل ٹیریئر جیسا ہے۔ یہ پھرتیلا، بہادر اور اپنے علاقے میں کسی بھی نئی چیز پر فوری ردعمل دینے والا ہے۔ ساتھ ہی یہ اپنے خاندان سے مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے اور اکثر ایک یا دو افراد سے خاص طور پر جڑ جاتا ہے، انہیں کمرے سے کمرے تک پیچھا کرتا اور ان کی حرکات پر نظر رکھتا ہے۔
یہ نسل ان مالکان کے لیے موزوں ہے جو چھوٹے قد مگر بڑی شخصیت والا کتا چاہتے ہیں اور ایک پرسکون گود میں بیٹھنے والے کتے کے بجائے متحرک اور چوکس ساتھی کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ فلیٹ ہو یا گھر، دونوں میں خوش رہتا ہے بشرطیکہ اسے روزانہ سرگرمی اور ساتھ ملے۔
| خصوصیت | تفصیل |
|---|---|
| اصل ملک | آسٹریلیا |
| جسامت | چھوٹا (تقریباً 5 سے 7 کلوگرام) |
| متوقع عمر | 11 سے 15 سال |
| گروہ/کردار | ٹیریئر؛ چوہے مار، پہرہ دار، ساتھی کتا |
| موزونیت | خاندان اور پرعزم تنہا مالکان کے لیے؛ بڑی عمر کے بچوں کے ساتھ؛ سماجی تربیت کے ساتھ دیگر کتوں کو برداشت کر لیتا ہے |
یہ نسل ایسے لوگوں کے لیے موزوں ہے جو زیادہ تر گھر پر رہتے ہوں یا کتے کو ساتھ لے جا سکتے ہوں، کیونکہ یہ طویل تنہائی پسند نہیں کرتا۔ جو مالکان مستقل تربیتی نظم اور روزانہ ذہنی مشغولیت فراہم کریں، یہ ان کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔ گھر میں چوہے یا خرگوش جیسے چھوٹے پالتو جانور رکھنے والوں کو احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ اس ٹیریئر کی شکار کی جبلت اب بھی مضبوط رہتی ہے۔
آسٹریلوی ٹیریئر انیسویں صدی کے آسٹریلیا میں برطانیہ سے لائے گئے کھردرے بالوں والے ٹیریئرز سے تیار ہوا اور باضابطہ پہچان پانے والی پہلی مقامی آسٹریلوی نسل بنا۔
یہ نسل انیسویں صدی کے آغاز سے تعلق رکھتی ہے، جب آبادکار برطانیہ سے مختلف قسم کے کھردرے بالوں والے ٹیریئر آسٹریلیا لے کر آئے۔ ان محنتی کتوں کی افزائش نوآبادیاتی دور کی عملی ضروریات کے مطابق کی گئی: چوہوں اور سانپوں کا خاتمہ، گوداموں اور کھیتوں کی نگہبانی، اور سخت موسمی حالات میں بھیڑوں کے کیمپوں کی دیکھ بھال۔
برطانیہ کے پہاڑی اور شمالی علاقوں کی چھوٹی کھردرے بالوں والی ٹیریئر نسلوں سمیت کئی برطانوی اقسام نے اس نسل کی تشکیل میں حصہ ڈالا۔ افزائش کاروں نے ایسے مضبوط اور زمین سے قریب کتے کو ترجیح دی جس کی کھردری کھال مٹی جھاڑ دے اور موسم کا مقابلہ کر سکے، ساتھ ہی اس میں اپنے سے کہیں بڑے کیڑوں مکوڑوں کا سامنا کرنے کی ہمت بھی ہو۔
اس نسل کو پہلی بار انیسویں صدی کے آخر میں آسٹریلیا میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا، جہاں اسے اس کے کھردرے اور بکھرے ہوئے بالوں کے حوالے سے مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا۔ یہ آسٹریلیا میں تیار ہونے والی پہلی نسل تھی جسے وہاں باضابطہ پہچان اور نمائش ملی، اور بعد میں بیسویں صدی کے دوران برطانیہ اور امریکہ کے کینل کلبوں سے بھی اسے پہچان ملی۔ پاکستان میں شائقین عام طور پر پاکستان کینل کلب کے ذریعے ایسی بین الاقوامی تسلیم شدہ نسلوں کی رجسٹریشن اور نمائش کرواتے ہیں۔
اس سے قریبی تعلق رکھنے والی آسٹریلوی سلکی ٹیریئر اسی نسب کا حصہ ہے، مگر اسے لمبے، ریشمی بالوں اور ساتھی کتے کے کردار کے لیے تیار کیا گیا، جبکہ آسٹریلوی ٹیریئر نے اپنی کھردری کھال اور محنتی مزاج برقرار رکھا۔
آسٹریلوی ٹیریئر ایک چھوٹا، زمین سے قریب اور مضبوط کتا ہے جس کی کھردری سیدھی کھال، نرم تاج نما بال اور کھڑے کان اسے پہچان دیتے ہیں، اور جس کا جسم قد سے لمبا ہوتا ہے۔
آسٹریلوی ٹیریئر کا جسم اس کے قد کے مقابلے میں لمبا ہوتا ہے، جس سے اسے زمین کے قریب اور پھیلی ہوئی ساخت ملتی ہے۔ سر لمبا ہوتا ہے، کان چھوٹے اور کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ گہرے بھورے بیضوی آنکھیں چوکس اور تیز تاثر دیتی ہیں۔ کھوپڑی پر نرم بالوں کا ایک الگ سا تاج نما گچھا ہوتا ہے جو جسم کی کھردری کھال سے واضح طور پر مختلف نظر آتا ہے۔ دم روایتی طور پر بعض علاقوں میں کاٹی جاتی رہی ہے، مگر جہاں یہ عمل ممنوع ہے وہاں اسے اکثر قدرتی حالت میں رکھا جاتا ہے۔
| خصوصیت | معیار |
|---|---|
| قد | کندھے تک تقریباً 25 سے 28 سینٹی میٹر |
| وزن | تقریباً 5 سے 7 کلوگرام |
| کھال | تقریباً 6 سینٹی میٹر لمبی کھردری، سیدھی بیرونی کھال اور مختصر نرم اندرونی تہہ؛ نرم تاج نما بال |
| رنگت | نیلا اور بھورا، ٹھوس ریتیلا (سینڈی)، یا ٹھوس سرخ |
| آنکھیں | چھوٹی، بیضوی، گہری بھوری |
بیرونی کھال کھردری اور سیدھی ہوتی ہے اور جسم سے چپکی رہتی ہے، جبکہ نیچے موجود مختصر نرم تہہ گرمائش فراہم کرتی ہے۔ تسلیم شدہ رنگتوں میں نیلا اور بھورا شامل ہے، جہاں نیلا رنگ گہرے سٹیل یا چاندی جیسے نیلے تک ہو سکتا ہے، ساتھ چہرے، ٹانگوں اور نچلے حصوں پر بھورے نشانات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹھوس ریتیلا اور ٹھوس سرخ رنگ بھی تسلیم شدہ ہیں۔ تاج نما بال عموماً جسم کی کھال سے ہلکا اور نرم ہوتا ہے۔ یہ کھردری بناوٹ محض ظاہری نہیں بلکہ کارآمد بھی ہے، جو کھال کو مٹی جھاڑنے اور نمی برداشت کرنے میں مدد دیتی ہے۔
آسٹریلوی ٹیریئر پراعتماد، وفادار اور چوکس ہے، اپنے خاندان سے قریبی وابستگی رکھتے ہوئے بھی ایک پرعزم پہرہ دار اور چھوٹے جانوروں کا فطری شکاری رہتا ہے۔
یہ ایک خود اعتماد اور پھرتیلا کتا ہے جو اپنے گھرانے سے قریبی رشتہ قائم کرتا ہے۔ گھر میں یہ عموماً محبت کرنے والا اور لوگوں سے قریب رہنے والا ثابت ہوتا ہے، اکثر کسی ایک فرد سے خاص طور پر جڑ جاتا ہے اور اس کے قریب رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ ادب سے پیش آنے والے بچوں کے ساتھ یہ عموماً کھیلنے کا شوقین اور صبر والا ہوتا ہے، مگر اپنے چھوٹے قد کی وجہ سے بہت کم عمر بچوں کے ساتھ اس کی نگرانی ضروری ہے۔
اجنبیوں کے سامنے یہ نسل چوکس اور محتاط رہتی ہے۔ یہ مہمانوں اور اجنبی آوازوں پر فوری طور پر بھونک کر خبردار کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک اچھا چھوٹا پہرہ دار ثابت ہوتا ہے، مگر تعارف ہو جانے کے بعد عام طور پر جارح نہیں ہوتا۔ ابتدائی سماجی تربیت اسے نئے لوگوں کے ساتھ جلد گھلنے ملنے میں مدد دیتی ہے۔
دوسرے کتوں کے ساتھ یہ ملنسار ہو سکتا ہے، اگرچہ بعض افراد میں ہم جنس کتوں کے سامنے دلیری کا ٹیریئر والا رجحان نظر آتا ہے۔ اس کی شکاری جبلت مضبوط رہتی ہے، اس لیے چوہے، خرگوش اور کبھی کبھار بلیاں جیسے چھوٹے پالتو جانور اسے پیچھا کرنے پر اکسا سکتے ہیں۔ یہ ذہین اور جلد سیکھنے والا ہے، مگر اتنا خودمختار بھی ہے کہ حدود کو آزماتا رہتا ہے۔
| خصوصیت | درجہ |
|---|---|
| محبت | 4 |
| توانائی | 4 |
| تربیت پذیری | 4 |
| بھونکنے کا رجحان | 4 |
| بال جھڑنا | 2 |
آسٹریلوی ٹیریئر کو معمولی کھال کی دیکھ بھال، روزانہ ورزش اور باقاعدہ ساتھ درکار ہوتا ہے، اور سرگرمی کی ضروریات پوری ہونے پر یہ فلیٹ اور گھر دونوں میں ڈھل جاتا ہے۔
کھردری کھال کی دیکھ بھال نسبتاً آسان ہے اور یہ کم بال جھاڑتی ہے، مگر اس کی بناوٹ برقرار رکھنے اور مردہ بال ہٹانے کے لیے باقاعدہ توجہ فائدہ مند رہتی ہے۔
یہ نسل فلیٹ ہو یا گھر، دونوں میں خوش رہتی ہے بشرطیکہ اسے روزانہ ورزش ملے اور طویل عرصے تک اکیلا نہ چھوڑا جائے۔ اپنی موسم برداشت کرنے والی کھال کی بدولت یہ مختلف آب و ہوا میں ڈھل جاتی ہے، مگر اسے باہر کے بجائے گھر کے اندر خاندانی کتے کی طرح رکھنا چاہیے۔
آسٹریلوی ٹیریئر کو چھوٹے متحرک کتوں کے لیے موزوں مکمل غذا ناپ تول کر کھلانا وزن بڑھنے کے رجحان کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔
چھوٹی نسلوں کے لیے تیار کی گئی مکمل اور متوازن غذا آسٹریلوی ٹیریئر کے لیے موزوں ہوتی ہے۔ چونکہ یہ ایک چھوٹا، متحرک کتا ہے، اس لیے مقدار پر قابو رکھنا ضروری ہے: زیادہ کھلانے یا زیادہ ٹریٹس دینے سے یہ نسل آسانی سے موٹی ہو سکتی ہے۔ کتے کی عمر کے مطابق غذا منتخب کریں اور مقدار کسی مقررہ ہندسے کے بجائے جسمانی حالت اور سرگرمی کے مطابق طے کریں۔ صاف پانی ہر وقت دستیاب ہونا چاہیے۔
| عمر کا مرحلہ | روزانہ مقدار | کھانوں کی تعداد |
|---|---|---|
| پپی (2 سے 6 ماہ) | وزن اور خوراک کی قسم کے مطابق تقریباً 80 سے 130 گرام | 3 سے 4 |
| نوجوان (6 سے 12 ماہ) | تقریباً 90 سے 130 گرام | 2 سے 3 |
| بالغ | تقریباً 75 سے 110 گرام | 2 |
| عمر رسیدہ | سرگرمی کے مطابق تقریباً 65 سے 95 گرام | 2 |
ٹریٹس کو روزانہ کیلوریز کے تقریباً 10 فیصد تک محدود رکھیں اور انہیں کل خوراک میں شمار کریں۔ مکمل غذا پر رکھے گئے زیادہ تر کتوں کو کسی سپلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی؛ جوڑوں، جلد یا کھال کے سپلیمنٹس شامل کرنے سے پہلے، خاص طور پر عمر رسیدہ کتوں کے لیے، ماہر بیطار سے مشورہ کریں۔
آسٹریلوی ٹیریئر عموماً مضبوط ہوتا ہے اور اس کی متوقع عمر 11 سے 15 سال ہے، اگرچہ اسے بعض جوڑوں، ہارمونی اور آنکھوں کے امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔
آسٹریلوی ٹیریئر ایک مضبوط نسل ہے جس کی معمول کی عمر 11 سے 15 سال ہوتی ہے۔ باقاعدہ بیطاری دیکھ بھال، اچھی غذا اور وزن پر قابو کے ساتھ اکثر کتے صحت مند رہتے ہیں۔ کئی چھوٹی نسلوں کی طرح، چند موروثی اور عمر سے جڑے امراض عام کتوں کی نسبت اس نسل میں کچھ زیادہ دیکھے جاتے ہیں، اس لیے آگاہی اور اسکریننگ مددگار ثابت ہوتی ہے۔
| مرض | علامات | نوٹ |
|---|---|---|
| پٹیلا لکسیشن (گھٹنے کی ہڈی کا کھسکنا) | چال میں اچھلنا، پچھلی ٹانگ میں وقفے وقفے سے لنگڑاہٹ | چھوٹی نسلوں میں عام؛ ہلکی سے لے کر آپریشن تک درجہ بندی |
| لیگ کالوے پرتھیز مرض | کم عمر کتوں میں پچھلی ٹانگ میں لنگڑاہٹ اور درد | کولہے کے جوڑ کو متاثر کرتا ہے؛ اکثر آپریشن درکار ہوتا ہے |
| ذیابیطس | زیادہ پیاس، پیشاب اور بھوک کے ساتھ وزن میں کمی | غذا اور انسولین سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے؛ مسلسل دیکھ بھال درکار |
| الرجک جلدی مرض | خارش، بار بار جلد یا کان کے انفیکشن | وجوہات ماحولیاتی یا غذائی ہو سکتی ہیں |
| موتیا اور دیگر آنکھوں کے مسائل | دھندلی آنکھ، کمزور نظر | وقتاً فوقتاً آنکھوں کا معائنہ ابتدائی تشخیص میں مددگار |
آسٹریلوی ٹیریئر ذہین اور خوش کرنے کا خواہش مند مگر خودمختار ہے، اس لیے ابتدائی عمر سے شروع کی گئی مستقل، انعام پر مبنی تربیت پر بہترین ردعمل دیتا ہے۔
یہ نسل تیز فہم ہے اور آسانی سے سیکھتی ہے، جس کی وجہ سے یہ اطاعت اور اجیلیٹی و ارتھ ڈاگ جیسے کھیلوں میں کامیاب ثابت ہوتی ہے۔ اس کا خودمختار ٹیریئر پن اسے ضدی اور بار بار دہرائے جانے والے مشقوں سے جلد بیزار بنا سکتا ہے، اس لیے تربیتی نشستیں مختصر، متنوع اور دلچسپ ہونی چاہئیں۔ لوگوں، کتوں اور روزمرہ کے حالات کے ساتھ ابتدائی سماجی تربیت اس کے چوکس اور فوری ردعمل والے مزاج کو نرم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ چونکہ شکاری جبلت مضبوط ہے، چھوٹے جانوروں کے قریب واپس بلانا مشکل رہتا ہے اور سڑکوں یا جنگلی حیات کے قریب اس پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔
آسٹریلوی ٹیریئر پہلے ایک یا دو سال میں افزائش کے قابل ہو جاتا ہے اور ہر بار تھوڑی تعداد میں بچے جنتا ہے جنہیں ابتدائی عمر سے احتیاط سے سماجی تربیت درکار ہوتی ہے۔
آسٹریلوی ٹیریئر کی ذمہ دارانہ افزائش والدین کے مزاج، کھال کے معیار اور صحت کی اسکریننگ پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ مادہ کتیا کو عام طور پر مکمل جسمانی اور رویاتی بلوغت تک پہنچنے کے بعد ہی افزائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اکثر پہلے سال کے بعد اور صحت کی منظوریاں حاصل ہونے پر۔ تمام چھوٹی نسلوں کی طرح، افزائش کا مقصد بچوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے نسل میں پائے جانے والے جوڑوں، ہارمونی اور آنکھوں کے امراض کو کم کرنا ہونا چاہیے۔
حمل کا دورانیہ تقریباً 63 دن ہوتا ہے۔ نسل کے قد کے مطابق ہر بار عموماً تین سے پانچ بچے جنم لیتے ہیں۔ ماں کتیا عام طور پر بغیر زیادہ مداخلت کے بچے جنتی اور پالتی ہے، مگر افزائش کار چھوٹے فریم کے پیش نظر زچگی میں دشواری پر نظر رکھتے ہیں۔
بچوں کو ابتدائی اور احتیاط سے بھرپور سماجی تربیت درکار ہوتی ہے۔ اس نسل کے چوکس اور نڈر مزاج کا مطلب ہے کہ ابتدائی ہفتوں میں مختلف لوگوں، ہینڈلنگ، آوازوں اور نرم نئے تجربات سے واقفیت ایک پراعتماد اور مستحکم بالغ کتا تیار کرتی ہے۔ بچے عام طور پر تقریباً آٹھ ہفتوں کے بعد نئے گھروں میں جاتے ہیں، جب انہیں دودھ چھڑایا جا چکا ہو اور ویکسینیشن و جراثیم کش تدابیر شروع ہو چکی ہوں۔ پاکستان میں شوقین افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کینل کلب سے رجسٹرڈ اور صحت کی اسکریننگ کرنے والے افزائش کاروں سے ہی بچے حاصل کریں۔
| پیمانہ | قدر |
|---|---|
| جنسی بلوغت | تقریباً 6 سے 12 ماہ |
| تجویز کردہ پہلی افزائش | مکمل بلوغت کے بعد، اکثر 12 ماہ کے بعد |
| حمل کا دورانیہ | تقریباً 63 دن |
| عمومی تعداد فی جھول | 3 سے 5 بچے |
| دودھ چھڑانے کی عمر | تقریباً 6 سے 8 ہفتے |
| نئے گھر جانے کی عمر | تقریباً 8 ہفتے یا بعد میں |
United Pet Club پر آپ کے آسٹریلین ٹیریئر نسل کے کتے کے لیے تاحیات مفت پروفائل، مائیکروچپ رجسٹریشن سمیت، بغیر کسی فیس کے۔
آسٹریلین ٹیریئر نسل کے کتے کا نام، تاریخِ پیدائش اور صاف تصویر درج کریں، اپنا فون نمبر شامل کریں اور محفوظ کر لیں۔ بس اتنا ہی کام ہے، اور یہ آج بھی مفت ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ کتے کی رجسٹریشن چپ کے ساتھ بھی چلتی ہے اور اس کے بغیر بھی۔
ویٹرنری ڈاکٹر چپ لگا دیتا ہے مگر اس کا اندراج کوئی آپ کی جگہ نہیں کرتا، اور بغیر اندراج چپ کسی کی شناخت نہیں کراتی۔ مائیکروچپ رجسٹر کریں، تاحیات مفت پلان پر: ہر برانڈ کی چپ قبول ہے، پتہ بدلنے پر اپ ڈیٹ مفت ہے، اور ریکارڈ ہر وقت تلاش کے لیے دستیاب رہتا ہے، پاکستان میں بھی اور باہر بھی۔ مفت اکاؤنٹ بنائیں اور دونوں کام آج نمٹا لیں۔
United Pet Club پر مفت اکاؤنٹ بنائیں، آسٹریلین ٹیریئر نسل کے کتے کی تفصیلات تصویر کے ساتھ درج کریں اور پروفائل محفوظ کریں۔ یہ کتے کی ساری عمر مفت رہتا ہے، اور چپ نمبر بعد میں بھی شامل ہو سکتا ہے۔
پندرہ ہندسوں کا چپ نمبر اپنے مفت اکاؤنٹ میں پتے اور فون نمبر کے ساتھ درج کریں۔ تاحیات پلان ہر برانڈ کی چپ قبول کرتا ہے اور اپ ڈیٹس کی کوئی فیس نہیں لیتا۔
قومی سطح پر کوئی پابندی نہیں؛ کچھ شہروں میں بلدیاتی لائسنس کے قواعد ہیں۔ چپ کا فائدہ صرف اس وقت ہے جب اس کے پیچھے تازہ ریکارڈ ہو، اور یہ ریکارڈ United Pet Club پر مفت ہے۔
کچھ نہیں۔ تاحیات مفت پلان میں پروفائل، مائیکروچپ رجسٹریشن اور آئندہ تمام اپ ڈیٹس شامل ہیں، سالانہ فیس کے بغیر۔
آسٹریلوی ٹیریئر کی جسامت، مزاج، دیکھ بھال، عمر، موزونیت اور دستیابی سے متعلق عام سوالات۔
یہ ایک چھوٹی نسل ہے جس کا قد کندھے تک تقریباً 25 سے 28 سینٹی میٹر اور وزن 5 سے 7 کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے، اور اس کا جسم قد کے مقابلے میں قدرے لمبا ہوتا ہے۔
یہ وفادار، پھرتیلا، چوکس اور پراعتماد ہے۔ یہ اپنے خاندان سے قریبی رشتہ قائم کرتا ہے اور ایک اچھا چھوٹا پہرہ دار ثابت ہوتا ہے، جبکہ چھوٹے جانوروں کا پیچھا کرنے کی مضبوط جبلت بھی رکھتا ہے۔
دیکھ بھال معتدل درجے کی ہے۔ کھردری کھال کم جھڑتی ہے اور ہفتے میں ایک یا دو بار برش کے علاوہ کبھی کبھار ہاتھ سے بال نوچنے کی ضرورت پڑتی ہے، اور اس کتے کو روزانہ 30 سے 60 منٹ کی ورزش اور باقاعدہ ساتھ درکار ہوتا ہے۔
زیادہ تر 11 سے 15 سال زندہ رہتے ہیں۔ کتے کو دبلا رکھنا، دانتوں اور بیطاری دیکھ بھال جاری رکھنا، اور صحت کی اسکریننگ کرنے والے افزائش کار کا انتخاب طویل عمر میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
جی ہاں، یہ فلیٹ ہو یا گھر، دونوں میں ڈھل جاتا ہے بشرطیکہ اسے روزانہ سرگرمی ملے اور طویل عرصے تک تنہا نہ چھوڑا جائے۔ یہ ادب سے پیش آنے والے بڑی عمر کے بچوں والے خاندانوں اور پرعزم تنہا مالکان کے لیے موزوں ہے۔
سماجی تربیت کے ساتھ یہ دوسرے کتوں کے ساتھ رہ سکتا ہے، مگر اس کی شکاری جبلت کی وجہ سے یہ چوہوں، خرگوشوں اور کبھی کبھار بلیوں کا پیچھا کر سکتا ہے، اس لیے چھوٹے پالتو جانوروں کا احتیاط سے انتظام ضروری ہے۔
اسے بڑے کینل کلبوں کی جانب سے تسلیم شدہ حیثیت حاصل ہے، مگر یہ کئی مقبول چھوٹی نسلوں کے مقابلے میں کم عام ہے، اس لیے پاکستان میں پاکستان کینل کلب سے رجسٹرڈ معتبر افزائش کار ڈھونڈنے میں صبر اور انتظار کی فہرست درکار ہو سکتی ہے۔